حکومت نے خیر سگالی کے طور پر طالبان کے 100 سے زائد قیدی رہا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سیز فائر کے اعلان کے بعد 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا جن میں اکثریت کا تعلق انٹرمنٹ سینٹرز سے ہے۔

ذمے دار اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے میڈیا کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے تحریک طالبان کے 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

رہائی پانے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو حکومت کے قائم کردہ انٹرمنٹ سینٹرز میں اصلاح کے عمل سے گزر رہے تھے اور انھیں 6 ماہ کی اصلاحی عمل کی تکمیل سے پہلے رہا کر دیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ تحریک طالبان ( جن کے ساتھ حکومت کے مذاکرات جاری ہیں ) کے مطالبے پر نہیں کیا بلکہ طالبان کی جانب سے یکم نومبر کو سیز فائر کے اعلان کے بعد خیر سگالی کے طور پر کیا ہے۔

سکیورٹی حکام نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ابھی تک حکومت پاکستان یا اس کے نمائندوں کے تحریک طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ مذاکرات کا سلسلہ دونوں طرف کے لیے قابل قبول مذاکرات کاروں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ ماضی کو دیکھ کر اپنی جانب سے کیا ہے اور طالبان کی جانب سے کوئی شرط نہیں عائد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اگست کے مہینے میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے تحریک طالبان افغانستان کے کہنے پر تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کے مستقبل میں امن میں رہنے اور آئین پاکستان تسلیم کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جس کے بعد تحریک طالبان سے مذاکرات جاری ہیں۔ یکم نومبر کو تحریک طالبان نے سیز فائر کا اعلان کیا جس پر بدستور عمل جاری ہے۔

اعلیٰ سکیورٹی حکام کے مطابق تحریک طالبان کے مختلف دھڑوں سے بیک وقت مذاکرات جاری ہیں تاہم یہ مذاکرات، مذاکرات کاروں کے ذریعے ہو رہے ہیں۔