ٹی ٹی پی کے بیشتر افراد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بیشتر افراد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کی اکثریت ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے، ایسے کئی لوگ ہتھیار ڈال کر قانون کو تسلیم کرنے کا اعلان کر کے قومی دھارے میں شامل ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کو داعش اور دیگر شدت پسند گروہ استعمال کرسکتے ہیں، ہم نے انہیں کوئی ایمنسٹی نہیں دی بلکہ یہ سارا کام وقت کے ساتھ طے ہوگا کیونکہ افغان طالبان کے ذریعہ ٹی ٹی پی سے بات چیت چل رہی ہے‘۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایسے معاملات کو ریاست کی سطح پر دیکھنا ہوگا، وزیراعظم نےواضح کردیا کہ پاکستان برائےفروخت نہیں، ہمارےساتھ بیٹھیں اور بات کریں، اب بیسز ایسےنہیں دی جاسکتیں‘۔

مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں معاشی اعانت اور استعداد کار میں اضافہ اہم ہے، امریکاکےساتھ ہمارا اور کوئی اختلاف نہیں ہے‘۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم پر مودی کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بھارت میں روزانہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیرمیں تاریخ کاسب سے بڑا محاصرہ جاری ہے، جہاں بے گناہ کشمیریوں کو قتل عام کیا جارہا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے معاملے پر کسی کو اتنی بڑی تبدیلی کا اندازہ نہیں تھا، انسانی معاملات پرکوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے،افغانستان میں موسم سرما میں بدترین صورت حال پیدا ہوجائے گی، وہاں انسانی بنیادوں پر اعانت کو پابندیوں سے علیحدہ کردیا گیا جبکہ کرنسی چھاپنے والی کمپنیاں بھی جاچکی ہیں‘۔