پشاور ہائیکورٹ : اسکولوں میں فرنیچر فراہمی کے عمل کی تحقیقات کا حکم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور ہائی کورٹ نے اسکولوں کو فرنیچر فراہمی کے معاملے میں ڈی جی نیب کو بولی کے عمل کی تحقیقات کرکے 2 ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

ہائیکورٹ میں اسکولوں کو فرنیچر فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے نیب کو اسکولوں کو 6 بلین روپے کے فرنیچر فراہمی کے بڈنگ پراسس کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی نیب انکوائری کرکے رپورٹ 2 ہفتے میں پیش کریں۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیئے کہ اسکولوں کو فرنیچر اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کہا کہ اسکولوں کو فرنیچر فراہمی کے لئے 6 بلین روپے جاری کئے ہیں جس میں ضم اضلاع کے اسکولوں کے لئے بھی جلد رقم جاری کریں گے۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ اسکولوں کو فرنیچر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ بچے بغیر فرنیچر کے فرش پر ٹاٹ پر بیٹھے ہوتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈی جی نیب صاحب بڈنگ اور پورے پراسس میں شفافیت یقینی بنائیں۔

اے اے جی سید سکندر حیات شاہ نے کہا کہ بڈنگ پراسس مکمل ہوئی ہے اب فرنیچر فراہمی کا مرحلہ شروع ہورہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ نیب بڈنگ اور پورے پراسس کو دیکھے اور ہمیں رپورٹ پیش کرے، نیب دیکھے کہ یہ کنٹریکٹ کس کو دیے گئے، کہیں اپنوں اپنوں کو نوازا تو نہیں گیا، فرنیچر کا معیار بھی چیک کریں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔