قبا ئلی اضلاع کی آبادی 35.55ملین ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

محکمہ بہبود آبادی خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل فضل نبی خان نے محکمہ بہبود آبادی کے لئے خدمات جاری رکھے ہوئے ہے اور صوبہ کے 632 فلاحی مراکز ‘ 34 خدماتی مراکز صحت‘ 31تولیدی مراکز صحت اور 3 علاقائی تربیتی مراکز کے ذریعے لوگوں کو طبی سہولیات ، مفت مانع حمل ادویات اور علاج معالجہ فراہم کی جارہی ہیں.

منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ کی 2018-19کی کارکردگی سے متعلق بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران دس لاکھ 16 ہزار جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات وخدمات جبکہ چار لاکھ چھبیس ہزار عام مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں.

انہوں نے کہاکہ فلاحی مراکز کی مدد سے دورافتادہ علاقوں میں 6049سیٹلائٹ کیمپس کا انعقاد کیاگیا جس میں لوگوں کو مانع حمل اور دوسری ادویات مفت فراہم کی گئیں. انہوں نے کہاکہ محکمہ کے خدماتی مراکز کی مدد سے 3312توسیع کیمپوں کا انعقاد کیاگیا.  جس میں ہزاروں لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی اوروسری ادویات فراہم کی گئیں.

انہوں نے کہاکہ دس لاکھ 45ہزار موزوں جوڑوں کو حاملہ بننے سے تحفظ فراہم کیاگیا. ضلعی اورتحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں اے ٹائپ مراکز صحت کے ذریعے 3600مانع حمل جراحی کرائے گئے‘

انہوں نے کہاکہ خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب اوراس حوالے سے غلط فہیموں کودورکرنے کیلئے علماء اور عوامی نمائندوں کیلئے صوبائی اور ضلعی سطح پر 9393ملاقاتوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیاگیا.

خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے ٹیلی ویژن ‘لوکل نیٹ ورک‘ ریڈیو اور بل بورڈز کے ذریعے 88ہزار 218مختلف قسم کی آگہی سرگرمیوں کا انعقاد کیاگیا.

محکمہ کے مختلف کیڈر کے 178ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی‘ انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر کل 25شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 23شکایات کا ازالہ کردیاگیا ہے اور 2زیر غور ہیں.

انہوں نے کہاکہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق خیبرپختونخوا کی آبادی 17.7ملین تھی جوکہ بڑھ کر 2017ء کی مردم شماری کے مطابق بشمول قبا ئلی اضلاع کی آبادی 35.55 ملین ہوگی ہے‘ آبادی میں اضافہ کی شرح 1998ء میں 2.8فیصد تھی جبکہ 2017ء میں یہ اضافہ 2.89فیصد ریکارڈ کیاگیا.

انہوں نے کہاکہ اگرچہ ہمارے صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آبادی کے اعشاریوں میں کافی حدتک بہتری آئی ہے.

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران مردم شماری کے اعداد و شمار کی اشاعت کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے 4 جولائی 2018ء کو سوموٹو ایکشن لیکر بڑھتی ہوئی آبادی کا نوٹس لیا جس کے نتیجے میں مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کے بعد ایک وفاقی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایاگیا .

ٹاسک فورس کا سربراہ وزیراعظم پاکستان ہیں جبکہ ہر صوبے میں وزیراعلیٰ کی سربراہی میں صوبائی ٹاسک فورس کا قیام بھی عمل میں لایاگیاہے.

انہوں نے کہاکہ مشترکہ کونسل نے آٹھ مختلف ایریاز میں کل 33سفارشات کی منظوری دیدی ہے جس میں 23سفارشات کا تعلق صوبوں سے ہے‘ ان سفارشات پرعملدرآمد کیلئے صوبائی سطح پر ایکشن پلان بنایاگیاہے.

انہوں نے کہاکہ ایکشن پلان کے مطابق خبیرپختونخواہ فیملی ہیلتھ کیئر اینڈ رائٹ بل 2019ء کی منظوری صوبائی کابینہ سے ہوئی ہے ‘ جس کو جلد ہی خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھی منظور کرایا جائیگ.