سانحہ اے پی ایس میں 5 دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی، سرکاری دستاویز

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں سنہ 2014 کے دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں کی گئی کارروائی کی تفصیلات سے متعلق دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکام نے دہشت گردی کے اس گھناؤنے فعل میں ملوث 5 دہشت گردوں کو پھانسی دی ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق 2 دسمبر 2015 کو 4 دہشت گردوں حضرت علی، عبدالسلام، سبیل اور مجید کو پھانسی دی گئی۔

دستاویز کے مطابق24 مئی 2017 کو سانحہ اے پی ایس کے دہشت گرد رضوان کو پھانسی دی گئی۔

سرکاری دستاویز کے مطابق اگست2016 سے دہشت گرد عتیق کی جائزہ پٹیشن عدالت عظمیٰ میں زیرغور ہے۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اے پی ایس خونریزی کے دہشت گرد اور مجرم مارے جا چکے ہیں اور اے پی ایس کے شہداء اور زخمیوں کو 1.54 ارب روپے معاوضہ دیا گیا ہے۔

اے پی ایس کے شہداء کے لواحقین کو 1.20 ارب روپے جبکہ زخمیوں کو 330.73 ملین روپے کا معاوضہ دیا گیا۔

وفاقی حکومت نے 280.14 ملین روپے معاوضہ کی رقم دی ۔ کے پی حکومت نے 400.98 ملین روپے دیئے۔ پنجاب حکومت نے 60.16 ملین روپے کا تعاون کیا۔ پاک فوج نے 720.93 ملین روپے دیئے اور  11 کور نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور زخمیوں کو 60.23 ملین روپے کی معاوضہ رقم دی۔

دستاویزات کے مطابق مقتول اساتذہ کے لواحقین کو 85 لاکھ روپے اور مقتول طلباء کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا۔

آرمی پبلک سکول کے پرنسپل کو ستارہ جرات اور تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا۔

اے پی ایس کے شہداء کو ڈی ایچ اے میں پلاٹوں سے بھی نوازا گیا۔ حکومت نے عمرہ کی ادائیگی میں شہداء کے لواحقین کی مالی مدد بھی کی۔