ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی عمل پر پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اسلام آباد میں تقریب کا انعقاد

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی عمل پر پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اسلام آباد میں تقریب کا انعقاد،خیبر پختونخوا حکومت اور یو این ڈی پی کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی تقریب میں صوبائی کابینہ اراکین، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے نمائندوں اور مختلف حکومتی محکموں کے افسران نے شرکت کی

جس میں ضم شدہ اضلاع میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے قبائلی عشرہ ترقی اور اس پر عملدرآمد کیلئے ترتیب دئیے گئے تیز تر عمل در آمد پروگرام (اے آئی پی) کے تحت اب تک کی پیش رفت کی تفصیلات بتائی گئیں اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی جانب سے حکومت کو فراہم کی گئی تکنیکی معاونت کو سراہا گیا ۔

خیبر پختونخو کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے منعقدہ اس تقریب میں نصف کے لگ بھگ تعداد میں صوبائی کابینہ اراکین کی شرکت اس کی اہمیت اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کی آئینہ دار ہے۔

انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں مؤثر نتائج کی حامل اصلاحات اور تیزی سے مکمل کیے جانے والے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں ان علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد یہاں تمام شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کیلئے تشکیل دی گئی حکمت عملی ’قبائلی عشرہ ترقی‘‘ اور اس پر عملدرآمد کیلئے اے آئی پی کے اجراء کا حوالہ دیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے ضم شدہ اضلاع کی بحالی کے عمل میں ترقیاتی شراکت داروں کے کردار کو سراہا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ضم شدہ اضلاع کو ترقی دینے اور ان کی سابقہ محرومیوں کے ازالے کیلئے انہیں ترقی کے بھر پور مواقع فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے وقت حکومت خیبر پختونخوا نے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں کا چلینج قبول کیا اور آج دس سالہ ترقیاتی پروگرام پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے اور جس کا پہلا مرحلہ بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے دوران ملازمت ضلع کرم، جنوبی وزیرستان اور خیبر میں خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے عوام بہت مصائب سے گزرے ہیں، انہوں نے بدامنی اور اس کے خاتمے کیلئے کیے جانے والے آپریشن کے دوران بہت مشکلات دیکھیں ہیں اور اب وقت ہے کہ ان کی بھلائی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے گزشتہ تین برسوں میں کیے جانے والے ترقیاتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی پی کے تحت تمام شعبوں میں بہتری کیلئے 327 منصوبے تجویز کیے گئے، جن میں سے 209 منصوبوں پر کام ہورہا ہے جبکہ 33 منصوبے ابھی پائپ لائن میں ہیں،

اور اب تک 60 ارب روپے سماجی اور معاشی ترقی کیلئے خرچ کیے جاچکے ہیں، جبکہ ایک ارب کی رقم ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو انصاف روزگار اسکیم کے تحت آسان شرائط پر قرضوں کی صورت میں فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کی توقعات کا اندازہ ہے اور چیلنجز کا بھی ادراک ہے،ہم جانتے ہیں کہ ان علاقوں کے لوگ برابری اور یکساں مواقع چاہتے ہیں، ان علاقوں کا استحکام پورے خطے میں استحکام کی کلید ہے۔

تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام ترکئی نے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی معاونت اور یو این ڈی پی کے مرجڈ ایریاز گورننس پراجیکٹ کی جانب سے تقریب کے انعقاد میں شراکت پر ان کا شکریہ ادا کیا