ضم شدہ اضلاع کیلئے 491 ارب روپے مالیت کے 901 منصوبے منظور کیے ہیں، عارف علوی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کے پی حکومت کی کارکردگی اور صوبے میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، صوبائی وزراء اور اعلیٰ صوبائی حکام نے شرکت کی۔

 صدر مملکت کو ضم اضلاع میں تعلیم، صحت، سڑکوں، توانائی اور انتظامی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے منصوبوں پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت کے مطابق مکمل ہو جائیں گے۔

اس موقع پر صدر مملکت نے ضم اضلاع کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے مشاورتی سیشن کے باقاعدہ انعقاد پر صوبائی حکومت کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع میں تنازعات کے متبادل حل کے نظام سے لوگوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جا سکے گا اور تنازعات کے متبادل حل کے نظام سے سابقہ فاٹا اضلاع میں عدلیہ پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی حکومت سابقہ فاٹا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ سابقہ فاٹا اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انتظامی انضمام مکمل ہو چکا ہے، ضم شدہ اضلاع کے لیے 491 ارب روپے مالیت کے 901 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ کامیاب جوان پروگرام، انصاف روزگار اسکیم جیسے منصوبوں سے مستفید ہونے کے لیے نوجوانوں اورخواتین کو رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومتیں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ نوجوانوں کو حکومت کی قرضہ اسکیموں کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے صوبوں میں کاروبار کرنے میں مزید آسانی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جب کہ معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی ترقی سے صوبے کے لوگوں کی ترقی اور مقامی آبادی کو روزگار کی فراہمی ممکن ہو سکے گی