قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں پرانا جرگہ سسٹم بحال کردیا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں پرانا جرگہ سسٹم بحال کردیا گیا ہے۔جس کے تحت آئندہ تنازعات کے حل میں قبائلی عمائدین کردار ادا کریں گے۔

پرانہ جرگہ سسٹم کی بحالی پر قبائلی عمائدین نے صوبائی حکومت ،وزیراعلی کے پی کے اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان کا شکریہ ادا کیا۔

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے آفس کے احاطے میں ڈپٹی کمشنر خالد اقبال خٹک نے محسود اور برکی اقوام کے عمائدین کا جرگہ طلب کیا تھا۔

جرگہ میں دونوں اقوام کے درجنوں سرکردہ عمائدین نے شرکت کی۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین کا کافی عرصہ کے بعد جرگہ طلب کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد قبائلی جرگہ سسٹم کی حیثیت ختم کی گئی تھی۔

صوبائی حکومت اور وزیراعلی نے پرانہ جرگہ سسٹم بحال کردیا ہے جس پر قبائلی عمائدین کو جرگہ سسٹم کی بحالی پر مبارک باد دی۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین اب ایک نئے جزبے کے تحت قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں دیر پاامن کے قیام کے لئے کردار ادا کریں۔

جرگہ سے خطاب اور بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملک قبائلی عمائدین نے صوبائی حکومت اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان خالد اقبال خٹک کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہمارا پرانہ سسٹم جرگہ کو بحال کردیا ہے۔

انھوں نے عہد کیا کہ وہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں دیرپا امن کے قیام اور دیگر مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے۔مگر یہاں فاٹا انضمام کے بعد بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے لینڈ کا پٹواری سسٹم نہیں ہے اور سارے تنازعات بھی زمین کی ملکیت پر ہوتے تھے۔

زمین کی ملکیت کا کیس عدالت میں چلتا تھا کہ کسی فریق کے ساتھ بھی سرکاری ریکاڈ نہیں ہوتاتھا۔ جس کی وجہ سے مسائل کے حل میں کافی مشکلات پیش آرہی تھی۔

فاٹا انضمام کے بعد قبائلی عمائدین کے جرگوں کی حیثیت ختم کردی گئی تھی لیکن اب تنازعات قبائلی سسٹم جرگہ کے زریعے حل کئے جائیں گے۔

کیونکہ اگر لینڈ کا سرکاری ریکارڈ نہیں ہے مگر یہاں زمین کی قبائلیوں کی تقسیم کی ہے۔جو بھی تنازعہ زمین کی ملکیت پر بن جاتا ہے اس کی ملکیت کا علم وہاں کے قبائلی عمائدین کو ہوتا ہے۔.