پشاور ڈینگی کیسز: ضلعی افسر ہیلتھ کو عہدے سے ہٹانے، انکوائری کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر اعلیٰ محمود خان نے پشاور میں ڈینگی کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ناقص کارکردگی پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور کو عہدے سے ہٹانے اور انکوائری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق آج وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان کی زیر صدارت ڈینگی صورت حال کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاون خصوصی کامران بنگش، پشاور سے منتخب اراکین اسمبلی اور چیف سیکریٹری کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈینگی کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ صوبے میں پہلی بار 37 اینٹامولوجسٹ بھرتی کیے گئے ہیں، وزیر اعلیٰ نے عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے کی ہدایت جاری کی۔

اجلاس میں ڈینگی کے تدارک کے لیے گھر گھر مہم اور عوامی آگہی کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، محمود خان نے ہدایات دیتے ہوئے کہا صوبے بھر میں ڈینگی تشخیصی ٹیسٹ مفت کیے جائیں، اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر ڈینگی سے متاثرہ علاقوں میں اقدامات کو مؤثر بنایا جائے، اور ان کے ساتھ ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔

انھوں نے کہا ڈینگی تدارک کے لیے محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، ڈبلیو ایس ایس پی باہمی اشتراک سے اقدامات تیز کریں، اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ڈینگی وبا سے شہریوں کا تحفظ حکومت کی پہلی ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے تمام ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

انھوں نے کڈنی سینٹر کے لیے بھی دو دن میں فنڈز جاری کیے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو ادویات کی فراہمی کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔