3 ہزار 500 کیمروں سے پشاور کی مکمل نگرانی کا پلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور کا قیام مجوزہ پلان کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ محکمہ داخلہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے روابط میں تیزی لانے اور باہمی تعاون یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ پشاور شہر کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کیلئے یہ منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ منصوبے کی بروقت تکمیل میں فنڈز اور دوسری پیچیدگیاں حائل نہیں ہونے دیں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور کے حوالے سے گزشتہ اجلاس میں احکامات جاری کرتے ہوئے منصوبے کے حوالے سے حتمی پلان پیش کرنے اور اس پر جلد ازجلد عملی کام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس ضمن میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ کا فالو اپ اجلاس وزیراعلیٰ محمود خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد سلیم خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، چیف آپریٹنگ آفیسر لاہور اکبر ناصر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا محمد نعیم خان، سیکرٹری ہوم ، سی سی پی او پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو سیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے مجوزہ پلان پر تفصیلی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پلان کے تحت ایک مرکزی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم جو کہ شرقی پولیس سٹیشن پشاور کے ساتھ قائم کیا جائے گاجبکہ اس سسٹم سے پشاور شہر کے داخلی و خارجی مقامات ، جلسے جلوسوں ، سرکاری عمارات ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مذہبی مقامات، سڑک کراسنگ ، اہم تنصیبات ، حساس مقامات اور ٹریفک جام جیسے مسائل کی نگرانی ممکن بنائی جائے گی۔

مزید بتایا گیا کہ مرکزی کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ابتدائی طور پر اہم سرکاری تنصیبات جیسے کہ سرکاری دفاتر ، سکیورٹی دفاتر، سول سیکرٹریٹ ، کورٹس ، ریلوے سٹیشن ، بس سٹیشنز، ائرپورٹ، گرڈ سٹیشنز، ٹیلی فون ایکسچنیجز، ہو ٹلز، ٹی وی سٹیشن، وی وی آئی پی سکیورٹی مقامات، عبادت گاہوں، اہم تعلیمی اداروں ،مزارات، عوامی مارکیٹوں، جلوسوں اور دیگر عوامی مقامات کی نگرانی کیلئے لاگو کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پلان کے تحت کل940 اہم مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر کل 3500 کیمرے نصب کئے جائیں گے جن میں 2300 فکسڈ کیمرے ، 700 پی ٹی زیڈ کیمرے جبکہ 500 ایسے کیمرے نصب کئے جائیں گے جس سے انسانی چہروں کی پہچان ممکن ہو سکے گی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کیلئے پی سی ون کی تیاری، متعلقہ فورم سے اس کی منظوری ، دلچسپی رکھنے والے فرمز کیلئے پری بڈنگ کانفرنس اور پری کوالیکفکیشن دستاویزات کو آئندہ چھ ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا جبکہ اس مرحلے کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل اگلے دوسال میں ممکن بنائی جائے گی ۔ سیف سٹی پراجیکٹ مجموعی طور پر چار جدید سائنسی شعبوں پر مشتمل ہو گا جس میں ایمر جنسی ریسپانس سسٹم ، انٹیگریٹڈ انٹیلیجنس کاؤنٹر سرویلنس سسٹم ،انٹیلیجنس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اور الیکٹرانک ایوی ڈنس مینجمنٹ سسٹم جیسے اہم فیچرزشامل ہونگے۔

مربوط ایمرجنسی ریسپانس سسٹم کے تحت شہریوں کیلئے ایمر جنسی کال سنٹرقائم کیا جائے گا جو ایمر جنسی کالز پر فوری ریسپانس دینے اور متعلقہ اداروں جیسے ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، پولیس سٹیشن اور ضلعی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ بروقت رابطہ کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

انٹیلجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم میں نصب کئے گئے کیمروں کے ذریعے شہر میں ٹریفک کی کل وقتی نگرانی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سسٹم کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی گاڑیوں وغیرہ کی براہ راست نگرانی کی جائے گی اور فوری ریسپانس کے طور پر ای چالان بھی جاری کئے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ منصوبہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے میں بھی مدد فراہم کرے گاجبکہ بعدازاں منصوبے کو دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بھی توسیع دی جائے گی، سیف سٹی پراجیکٹ کے قیام سے پشاور شہر میںنگرانی کا ایک ایسا مرکزی اور مربوط نظام قائم ہو گا جس سے پورے شہر میں وقوع پذیر ہونے والے اہم واقعات کی نگرانی ایک چھت کے نیچے ممکن ہو سکے گی۔