دنیا افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے مدد کرے، پاکستان/ ایران

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کيا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا پُرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دورۂ ایران پر تہران میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ ملاقات میں برادرانہ تعلقات کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں میں علاقائی و عالمی امور خاص طور پر افغانستان کی تازہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کو تجارتی نقل و حرکت میں سہولیات فراہمی کیلئے پُرعزم ہے، عالمی برادری بھی افغانستان کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کیلئے اقدامات یقینی بنائے۔

ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے مدد کی جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا افغان مسئلے کے حل کیلئے پاکستان اور ایران کا نقطہ نظر بڑی حد تک ایک ہے، دونوں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں اور دونوں کو ادراک ہے کہ ہمیں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی علاقائی مسائل کے حل کیلئے پاکستانی لائحہ عمل کو سراہا۔

افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو مدد کرنی ہو گی

دوسرے جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغان عوام کو معاشی مسائل سے نکالنے کے لیے دنیا کردار ادا کرے۔

وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو کمیونسٹ پارٹی کی صد سالا تقریبات پر مبارکباد دی۔

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 4 دہائیوں کے دوران چین سے غربت کے خاتمے اور اصلاحات کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی کے 70 سال مکمل ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی بھی دی۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ امور اور شرکت داری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے خلاف چین کے اقدامات کی تعریف کی اور چین کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کے لئے انسداد کورونا امداد کو سراہا۔

ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے باہمی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا جب کہ سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل سے متعلق بھی خصوصی بات چیت کی گئی، وزیراعظم نے سی پیک کے اقتصادی زون میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی تازہ صورتحال پر بھی بات چیت کی، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان عوام کو معاشی مسائل سے نکالنے کے لیے دنیا کردار ادا کرے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے مدد کرنی ہو گی۔

وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے چینی اقدام کو سراہا جب کہ دونوں رہنماؤں میں مختلف شعبوں میں پاک چین تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق بھی کیا، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو جلد دورہ پاکستان کی دعوت دی۔