حکومت کا ایک اور مقام کو سیاحتی مرکز بنانے کی تیاری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختون خواہ کے علاقے مانسہرہ میں ایک اور سیاحتی مرکز قائم کرنے کی ہدایت کردی۔

نیوبالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے سے متعلق اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی، وزیراعلیٰ خیبرپختون خواہ محمد خان، رکن قومی اسمبلی صالح سواتی، صوبائی وزیر برائے آبادی سید احمد حسین شاہ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اکبر نواز ستی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت پہاڑی علاقوں مین نئے ریزوٹ بنانے کی خواہش مند ہے۔

وزیراعظم ہدایت کی کہ حکومت سیاحتی مقامات کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاروں کوپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے، سرمایہ کاروں کوسہولیات کےلیےضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختون خواہ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ منصوبے کو ایرا سے لے کر سیاحتی مقام کے طور پر مکمل کرے، اس دوران غذائی تحفظ کےلیے زیر کاشت اراضی کو منصوبےمیں شامل نہ کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ نیو بالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کےطور پر ترقی دینے کے حوالے سے تمام ضروری کارروائی مکمل کرلی گئی ہے

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس علاقے میں 6 ہزار 753 ایکڑ اراضی ہے، جس میں سے 63 فیصد رہائشی پلاٹ ہیں، جو مقامی متاثرین کی الاٹمنٹ کے لیے مختص ہیں جبکہ 2480 رہائشی ،575 کمرشل پلاٹس ، 800اپارٹمنٹس نیلام کیے جائیں گے، جس سے حاصل ہونے والے فنڈز اسی منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ نیوبالاکوٹ سٹی کی ترقی خیبرپختون خواہ حکومت کی ذمہ داری ہے، صوبائی حکومت اس ضمن میں زمین حاصل کرچکی ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مکمل کیے جانے والے اس منصوبے میں یوتھ ہاسٹل ، تھیم پارک ، کیمپنگ گراؤنڈ اور تھری اسٹار ہوٹل شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے پر نہ صرف موجودہ سیاحتی مقامات پر دباؤ کو کم کرے گا بلکہ حکومت کے ساتھ متوقع آمدنی کی تقسیم کے نتیجے میں 7 ارب روپے سے زیادہ سالانہ کمائی کا ذریعہ بھی ہوگا۔

وزیراعظم نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

سیاحتی مقامات پربین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے، سیاحتی مقامات پربین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کورآڈینیشن کمیٹی برائےسیاحت کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر فوادچوہدری، معاون خصوصی شہباز گل اورمتعلقہ وزارتوں کے سیکریٹری صاحبان نے شرکت کی جبکہ وزیر اعلیٰ کےپی و دیگر صوبائی حکام بھی ویڈیو لنک کےذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس میں سیاحتی مقامات کےفروغ کیلئےکئےگئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا اور بریفنگ دیتے ہوئے کہا پنجاب میں 4سیاحتی مقامات کیلئےبین الاقوامی ادارے کی خدمات لی جاچکی ہیں، کےپی میں بھی 4انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز کےماسٹر پلان کے مسودے تیار ہوچکے ہیں۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ پنجاب میں سیاحت پرذیلی قوانین ،ریگولیشنز کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، صوبے میں جلدسیاحت پرذیلی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا جبکہ خیبر پختونخوا میں قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کو اٹک ،بالا حصار قلعے کو سیاحتی مراکز بنانے کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیاحت کے فروغ کیلئےسنٹرلائزڈ ٹورازم ویب سائٹ مکمل فعال ہے ، اجلاس میں گورنمنٹ ریسٹ ہاؤسز،گورنرہاؤسزکودستیاب کرنےکے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے، اس پوٹیشنل کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، سیاحتی مقامات پربین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے اور ریزاٹ،معیاری ہوٹل کی سہولت بشمول ٹیکس چھوٹ پرتجاویزدی جائیں۔

وزیر اعظم نے جہلم اور اس کے اطراف ریسٹ ہاؤسز و دیگر تاریخی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا عمارات کی بحالی کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو بروئے کار لایا جائے، سیاحت کے حوالے سے زیرالتوا معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے۔