ٹانک میں جنوبی وزیرستان کے معذور افراد کا احتجاج

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے جسمانی طور پر معذور افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں اتوار کے روز ضلع ٹانک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

معذور افراد ریلی کی شکل میں جنوبی وزیرستان سے اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کےلئے جارہے تھے، رات کو جیسے ہی ریلی کے شرکاء ٹانک پہنچے تو پولیس نے اُنہیں آگے جانے سے روک دیا اور تمام معذور افراد جن میں معمر افراد اور بچے بھی شامل تھے نے رات سڑک پر گزاری۔

نجی نیوز چینل سے وابستہ صحافی امان اللہ نے بتایا کہ پولیس نے 3 بسوں پر مشتمل معذور افراد کے قافلے کو مانجھی خیل کے مقام پر روک دیا تھا اور لانگ مارچ کے شرکاء بغیر کچھ کھائے پیئے رات کھلے آسمان تلے گزارنے پر مجبور رہیں۔

اتوار کی صبح بھی جب پولیس نے معذور افراد کو آگے جانے نہیں دیا تو انہوں نے ٹانک ڈیرہ بائی پاس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے معذور افراد کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام سے قبل ہمیں اے.ڈی.ایف سے جو وظائف دیئے جاتے تھے وہ اب بند کردئیے گئے ہیں جس سے ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ اب اپنے وعدوں سے مکر گئی اور ہمیں بے یارومددگار بیچ راستے میں چھوڑ دیا گیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے جنوبی وزیرستان انتظامیہ کے منتخب ایم پی اے نصیر اللہ اور وزیر اعلیٰ کے مشیر اجمل خان وزیر ہمیں جھوٹے وعدوں کے ذریعے گزشتہ ایک سال سے ٹرخا رہے ہیں اس لئے ہم اپنے حقوق کے حصول کیلئے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے جارہے ہیں اور دھرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے۔

دوسری جانب پولیٹیکل کمپاؤنڈ میں پولیٹیکل انتظامیہ اور معذور افراد میں مذاکرات جاری ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے اگر ایفاء نہ ہوئے تو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔