‘آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے جلد خوشخبری ملے گی’

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے جلد خوشخبری ملے گی ، معاشی اصلاحات سے مستقبل میں اچھے نتائج کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پاکستانیوں کےسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے کے حوالے سے جلد خوشخبری ملے گی، مشیرخزانہ معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے نیویارک سے واشنگٹن واپس گئے۔

رضا باقر کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات اور اداروں میں بہتری سے مستقبل میں اچھےنتائج نکلنے کی امید ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف عہدیدار نے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے انداز میں آگےبڑھ رہے۔

خیال رہے ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں، مشیر خزانہ شوکت ترین واشنگٹن میں ہیں، آئی ایم ایف سےمذاکرات بےنتیجہ ختم ہونے کی اطلاعات درست نہیں۔

یاد رہے مشیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سےمذاکرات جاری ہیں،انشاءاللہ کامیاب ہوں گے ، پاکستان میں تاثردیاجارہاہےکہ مذاکرات ناکام ہوگئےجوغلط ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کہ ایم ڈی آئی ایم ایف سےملاقات کافی مفیدرہی، قوم کو ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

آئی ایم ایف سے ایسی ڈیل نہیں کی جائے گی جس سے معیشت کو نقصان ہو’

دسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ معاملات مثبت سمت میں چل رہےہیں، ایسی ڈیل نہیں کی جائیگی جس سے معیشت کو نقصان ہو۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی مصنوعی ہے،جلدقابوپا لیاجائیگا، آئی ایم ایف کیساتھ معاملات مثبت سمت میں چل رہےہیں۔

رضاباقر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ڈیل سب کےسامنےآئےگی اور ایسی ڈیل نہیں کی جائیگی جس سے معیشت کو نقصان ہو۔

،گورنراسٹیٹ بینک نے مزید کہا پاکستان نےایف اےٹی ایف کی تقریباًتمام شرائط پوری کر دی ہیں، پاکستان ایف اے ٹی ایف کےحوالے سے مثبت اقدامات کررہا ہے ، پاکستان جلد گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ روپےکی قدر گرنے سےاوورسیز پاکستانیزکوفائدہ بھی پہنچاہے، اس فائدےکوبھی مد نظر رکھا جائےکہ کتنے لوگ مستفید ہوئے ہیں جبکہ ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔