مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا کرنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 86 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فاضل رہنے والا کرنٹ اکاؤنٹ بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے شدید خسارے کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 86 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اضافی رہنے والا کرنٹ اکاؤنٹ بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے شدید خسارے کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق جاری کھاتے میں اگست میں ایک ارب 47 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے خسارے کے بعد ستمبر میں 1 ارب 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ پہلی سہ ماہی کا مجموعی خسارہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیا۔

پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کھاتے کو بڑھانے میں درآمدات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ نے اہم کردار ادا کیا، پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات 7 ارب 24 کروڑ ڈالر جب کہ درآمدات کی مالیت 17 ارب 47 کروڑ ڈالر رہی.

اس طرح پہلی سہ ماہی کا تجارتی خسارہ 10 ارب 23 کروڑ ڈالر رہا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں برآمدت 5 ارب 35 کروڑ ڈالر جب کہ درآمدات 10ارب 63کروڑ ڈالر رہی تھیں اور تجارتی خسارے کی مالیت 5 ارب 28 کروڑڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 10 ارب 95 کروڑ ڈالر رہی جب کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 5 ارب 81 کروڑ ڈالر رہا تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری رپورٹ کے مطابق ستمبر 2021 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک ارب 11 کروڑ ڈالر رہا اور درآمدات 6 ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں۔

گزشتہ ماہ میں برآمدات 2 ارب 64 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ ستمبر کا تجارتی خسارہ 3 ارب 43 کروڑ ڈالر رہا۔ ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3.87 ارب ڈالر رہا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر رہا جبکہ مالی سال 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاونٹ 86 کروڑ ڈالر سرپلس تھا۔