ڈی آئی خان: جشن عید میلاد النبی (ص) جوش و جذبے سے منایا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ڈیرہ اسماعیل خان میں جشن عید میلادالنبی (ص) نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان، پہاڑ پور، ڈھکی اور پروآ سمیت مضافات میں 16 چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آر پی او ڈیرہ کی نگرانی میں پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

دنیا بھر کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جشن عید میلادالنبی (ص) مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، پہاڑ پور، ڈھکی اور پروآ سمیت مضافات میں 16 چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔

جشن عید میلادالنبی (ص) کا پہلا مرکزی جلوس ڈسٹرکٹ تنظیم اہلسنت والجماعت کے زیرانتظام حقنواز پارک سے شروع ہو کر توپانوالہ بازار، گھاس منڈی، کلاں بازار اور چوگلہ سے ہوتا ہوا میدان حافظ جمال میں اختتام پذیر ہوا۔

جلوس میں مولانا احمد شعیب، مولانا غلام فرید، قاری عمیر فاروقی سمیت دیوبندی حضرات نے بھرپور شرکت کی۔

جشن عید میلادالنبی کا دوسرا مرکزی جلوس جماعت اہلسنت (بریلوی) کی جانب سے جامعہ تاج مسجد ٹاﺅن ہال سے برآمد ہوا جبکہ اس جلوس میں نہ صرف اہلسنت (بریلوی) بلکہ اہل تشیع، دیوبندی کے علاوہ ہندو و مسیح کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

جلوس کی قیادت جماعت اہلسنت (بریلوی) کے رہنما سید نزاکت حسین گیلانی، صاحبزادہ عابد فاروقی نے کی۔ جلوس میں حاجی عبدالحلیم قصوریہ، تاجر رہنما چوہدری جمیل احمد، سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

جلوس جامعہ تاج مسجد سے شروع ہو کر ہسپتال روڈ، جی پی او چوک، توپانوالہ سے ہوتا ہوا میلاد پارک میں اختتام پذیر ہوا۔

جلوس میں وفاقی وزیر سردار علی امین خان گنڈہ پور نے بھی شرکت کی۔ جشن عید میلادالنبی کے موقع پر آر پی او ڈیرہ کی قیادت میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔

جلوس کے راستوں کی بم ڈسپوزل سکواڈ نے سکینگ کی جبکہ جلوس کے راستوں کی گلیوں کو سیل کیا گیا اور خصوصی ناکہ بندیاں کی گئی تھیں۔

جلوس کے راستوں میں ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت کی جانب سے میڈیکل کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایمبولینسز اور میڈیکل عملہ بھی مستعد رہا .

واسا کی جانب سے جلوس کے راستوں کی صفائی اور دیگر سہولیات فراہمی کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے اور سی ای او واسا جلوسوں کے دوران سہولیات فراہمی کا از خود جائزہ لیتے رہے۔