عالمی مالیاتی فنڈز سے مذاکرات کی ناکامی کی خبریں مسترد

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان اور آئی ایم ایف ایک بار پھر معیاری فریم ورک پر اختلافات اور معیشت کے مستقبل کے روڈ میپ پر غیریقینی صورتحال کی وجہ سے مقررہ وقت پرا سٹاف سطح پر معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ارب ڈالر کے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے اور بہتر معاشی صورتحال کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے 4 سے 15 اکتوبر تک مذاکرات کا نیا دور بےنتیجہ رہا۔

پاکستان کی جانب سے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی پیشگی شرط قبول کی جانے کے باوجود مذاکرات ناکام ہوئے۔ تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے.

مذاکرات کے مثبت خاتمے کی کوششوں میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیوا اور امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈونلڈ لو سے الگ الگ ملاقات کی۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں ملاقاتیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی سبکدوش ہونے والی نمائندہ ٹریسا ڈابن سانچیز نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ آئی ایم ایف ٹیم پاکستانی وفد کے ساتھ مذاکرات میں ہمارے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف کار ہے اور ہم پاکستانی حکام کے ساتھ پالیسیوں اور اصلاحات پر مذاکرات کے تسلسل کے منتظر ہیں جو 6ویں جائزے کی تکمیل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

یہ دوسری بار ہوا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف ’چھٹے جائزے کی تکمیل کی بنیاد‘ تک نہیں پہنچ سکے، جون میں بھی یہ کوشش بےسود رہی تھی، پاکستان اور آئی ایم ایف اب تک معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) پر متفق ہونے میں ناکام رہے ہیں، جو بیل آؤٹ پروگرام کی بنیاد بنتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے تاحال حتمی میکرو اکنامک پوزیشنوں کا تبادلہ نہیں کیا، جسے 8 اکتوبر تک مکمل ہونا چاہیے تھا، آئی ایم ایف مذاکرات بارے غیریقینی صورتحال اسٹاک مارکیٹوں کو متاثر کر سکتی ہے اور روپے اور ڈالر کی قدر کو مزید دباؤ میں لاسکتی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف اضافی ٹیکس کے ہدف اور پاور سیکٹر کے مالی استحکام کے روڈ میپ پر متفق نہیں ہو سکے، گیس کی قیمتوں میں اضافے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر بھی مسائل سامنے آئے۔

مذاکرات 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں شروع ہوئے تھے، شوکت ترین چاہتے تھے کہ مذاکرات 15 اکتوبر کو واشنگٹن میں اختتام پذیر ہوں، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی اور گیس کے نرخوں اور ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار شیئر کیے ہیں اور وزیر خزانہ شوکت ترین نے واشنگٹن میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ آئی ایم ایف حکام ان اعدادو شمار کا جائزہ لے رہے ہیں اس حوالے سے وہ ہمیں آگاہ کرینگے۔

واضح رہے کہ عام طور پر پالیسی سطح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ان اعداد و شمار پر اتفاق کر لیا جاتا ہے۔ تاہم فریقین نے بجٹ سے متعلق اہم اعداد و شمار کا تبادلہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ ان دونوں طرف بہت زیادہ فرق پایا جا رہا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کے کم از کم 1 فیصد یا 525 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت 300 ارب روپے کے ٹیکس پر آمادہ ہے.

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اضافی ٹیکس کے ہدف پر بات چیت کا دور بھی نتیجہ خیز نہ رہا، رواں سال ایف بی آر 5.8 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرے گا، آئندہ مالی سال میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب جی ڈی پی کا 13.75 فیصد ہو جائے گا۔

گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب صرف 11.1 فیصد تھا۔ شوکت ترین نے اپنی نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ سیکرٹری خزانہ یوسف خان منگل تک مذاکرات جاری رکھنے کے لیے واشنگٹن میں قیام کریں گے

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے شیڈول کے مطابق پیر کو پاکستان واپس پہنچنا تھا، وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ نیویارک میں ہونگے تاہم ضرورت پڑی تو آن لائن مذاکرات میں شامل ہوجائیں گ

دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزراتِ خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ناکامی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جمعہ کو مذاکرات جہاں ختم ہوئے پیرسے دوبارہ اُسی نقطے سے بات چیت کا آغاز ہوگا۔

مزمل اسلم نے کہا کہ مذاکرات بلاتعطل پیر سے دوبارہ شروع ہوں گے، مذاکرات ختم ہونے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے، آئی ایم ایف سے کامیابی تک مذاکرات جاری رہیں گے۔

ترجمان وزارتِ خزانہ نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ اوران کی ٹیم واشنگٹن میں مذاکرات کیلئے موجود ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر خزانہ شوکت ترین امریکا پہنچے جبکہ ایک روز قبل گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے امریکا پہنچے ہیں۔

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں مستقبل میں پروگرام جاری رکھنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔

دو روز قبل شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ مہنگائی میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔