نجی سکولوں کو عارضی طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس وصولی کی اجازت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور ہائیکورٹ نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو عارضی طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسوں کی  وصولی کی اجازت دیدی جبکہ  اس سلسلے میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو حتمی فیصلہ کرنے کیلئے دو ماہ کی مہلت دیدی۔

بدھ کے روز پشاورہائیکورٹ نے سکول فیسوں سے متعلق فیصلہ بدھ کے روز سنادیا چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ کی سربراہی میں قائم بنچ نے سکول فیسوں کافیصلہ محفوظ کیاتھا عدالت عالیہ کے دورکنی بنچ نے 23صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیاہے۔

عدالت تمام قسم کی فیس (سالانہ فیس، پروموشن فیس،ماہانہ فیس) پر کوئی ہدایت جاری نہ کر سکی کیونکہ قوانین کے مطابق اس کا اختیار ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس ہے تاہم عدالت عالیہ نے سالانہ فیسوں میں اضافے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے مستقبل میں فیسوں کے تعین کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت بننے والی کمیٹیوں میں اپنی شکایات دے سکتے ہیں تاہم ناانصافی کی صورت میں عدالت سے رجوع کیاجائے۔

نجی تعلیمی اداروں کے وکلاء کا موقف تھا کہ تمام مسائل کا حل اتھارٹی میں موجود ہے اورسپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ دے چکی ہے، قانون سازی قانون ساز ادارے کاحق ہے اور والدین کی شکایات کے حل کےلئے باقاعدہ کمیٹی موجود ہے، پی ایس آر اے کے رولز اور ریگولیشن کی موجودگی میں عدالت میں اس رٹ کی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم مخالف وکلاء نے گرمیوں کی چھٹیوں اور ریگولیٹری اتھارٹی کی شقوں کو چیلنج کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایات کے ازالے کا مکمل طریقہ موجود ہے جس کی موجودگی میں رٹ پٹیشن کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، آئین کا آرٹیکل 199 صرف اس وقت قابل سماعت ہوتا ہے جب متعلقہ قانونی ادارے انصاف فراہم نہ کر پائیں لہٰذا موجودہ رٹ پٹیشن کو آرٹیکل 199 کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا، چھٹیوں کی فیس کے بقایاجات (جس کے بارے میں حکم امتناعی جاری ہوا تھا) کو آسان اقساط یعنی کے 25 فیصد ماہانہ کے حساب سے وصول کیا جائے۔

عدالت نے کہا ہے کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ کئی سکولوں کو بغیر انکوائری رجسٹریشن دی گئی ہے اسکی تحقیقات ہونی چاہئیں، رولزکے بنانے میں بھی حکومت عدم دلچسپی لے رہی ہے، بعض پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے رولز پر من وعن عمل درآمد نہیں کررہے ہیں، اس کا نوٹس لیاجائے۔

عدالت نے تمام اضلاع میں اتھارٹی دفاتر بنانے اورچھٹیوں و ٹرانسپورٹ کی مد میں فیس کا تعین کرنے لیے اتھارٹی کو 60 دن میں رولز بنانے کا حکم دیا اور یہ ہدایت بھی کی  کہ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی سکولوں میں موجود سہولیات کا جائزہ لے جبکہ سکولوں میں بچوں کی فزیکل ٹریننگ لازمی قرار دی جائے۔