ٹک ٹاک نے پاکستان میں 90 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائی گئیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ پاکستان رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں کمیونٹی ہدایات کی خلاف ورزی کے باعث ہٹائی جانے والی ویڈیوز کے حجم کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر رہا اور یہاں سے 98 لاکھ 51 ہزار 404 ویڈیوز ہٹائی گئیں۔

اپنے بیان میں چینی ایپ نے ’کمیونٹی گائیڈلائنز انفورسمنٹ‘ رپورٹ کے نتائج شیئر کیے، جس میں 2021 کی دوسری سہ ماہی میں پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے والے مواد کے حجم اور نوعیت کی تفصیلات شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ میں کمیونٹی کی سخت رہنما ہدایات کی خلاف ورزی، کمیونٹی، پالیسی سازوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے لیے پلیٹ فارم کے عوامی احتساب کو تقویت دینے کے لیے ہٹائے گئے مواد کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ نے کہا کہ اپریل سے جون تک عالمی سطح پر 8 کروڑ 15 لاکھ 18 ہزار سے زائد ویڈیوز ہٹائی گئیں، جو اپ لوڈ کیے گئے تمام مواد کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

ان ویڈیوز میں سے 93 فیصد کے خلاف پوسٹ کیے جانے کے 24 گھنٹے کے اندر جبکہ 94.1 فیصد کے خلاف صارف کی جانب سے رپورٹ کیے جانے سے قبل ایکشن لیا گیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ہٹائے گئے مواد میں سے 87.5 کو کسی صارف نے نہیں دیکھا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہٹائے جانے والی ویڈیوز میں سے 73.3 فیصد ہراسانی اور دھمکانے جیسے مواد کو فروغ دینے جبکہ 72.9 فیصد نفرت آمیز رویے پر مشتمل تھیں جنہیں رپورٹ کیے جانے سے قبل ہٹایا گیا، یہ تعداد رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 66.2 فیصد اور 67 فیصد تھی۔

ٹک ٹاک نے کہا کہ یہ بہتری ٹیکنالوجی اور مواد کی اعتدال پسندی کے امتزاج سے آئی ہے جس کی نگرانی مخصوص تفتیشی ٹیم کرتی ہے اور یہ ٹیم پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والی ویڈیوز کی نشاندہی کرتی ہے.

انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کو بہتر طور پر نافذ کرنے کے لیے ماڈریٹرز باقاعدہ تربیت بھی حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ مواد کی شناخت کریں جس میں کمیونٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔

واضح رہے کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر پاکستان میں متعدد بار پابندی لگائی گئی ہے اور یہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے اب بھی بلاک ہے۔

پاکستان میں ایپ پر پہلی بار پابندی اکتوبر 2020 میں لگائی گئی تھی اور پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایپ پر فحش و غیر اخلاقی مواد کی شکایات کے بعد لیا گیا۔

بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ نے لاکھوں نامناسب مواد پر مبنی ویڈیوز ہٹانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کی سروس بحال کی تھی۔

رواں برس مارچ میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کے باعث ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے فحش ویڈیوز ہٹائے جانے کے دعوے اور یقین دہانی پر اپریل میں اس کی سروس بحال کردی گئی تھی۔

قبل ازیں جون میں سندھ ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی جس کے خلاف پی ٹی اے نے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

بعد ازاں ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر عائد کی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

جولائی میں پی ٹی اے نے ’نامناسب مواد‘ ہٹائے جانے میں ناکامی پر ٹک ٹاک تک رسائی ایک بار پھر بلاک کردی تھی۔