خیبر پختونخواہ : افغان مہاجرین کیمپوں میں سیف سپیسز کا افتتاح

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کمشنر برائے افغان مہاجرین، عباس خان، سارک پروجیکٹ کے سربراہ ہایدی ہرمن اور چیف کوارڈینٹر راہا افغان کمشنریٹ فخر عالم نے خزانہ (پشاور) اور اکوڑہ خٹک (نوشہرہ) میں سیف سپیسز کا افتتاح کر دیا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں عباس خان نے گزشتہ 70 سالوں سے پاکستان میں جرمن حکومت کی افغان مہاجرین اور میزبان برادریوں کی حمایت کو سراہا.

انہوں کہا کہ جرمن حکومت اور جی آئی زیڈ کا تعاون ہمارے لئے گزشتہ چالیس سالوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور ان کی اور میزبان کمیونٹیز دونوں کے پرامن بقائے باہمی کے لئے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلے مکالموں، دونوں برادریوں کے درمیان تبادلے، سیکھنے اور نئے خیالات پر کام کرنے کی جگہیں ہمیشہ کمیونٹیز کے ارکان کی سماجی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

عباس خان نے کہا کہ سیف سپیسز دونوں کمیونٹیز کے لئے ایک باہمی پلیٹ فارم ہے اور یہ ایک مربوط کردار ادا کرے گا اور ایک ایسی جگہ فراہم کرے گا جہاں دونوں کمیونٹیز کے ارکان اکٹھے ہو سکیں.

انہوں نے کہ کہ اکٹھے ہونے سے وہ اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کر سکیں، تربیت اور آگاہی مہم میں شرکت کر سکیں اور اپنے مسائل کا اپنے طور پر حل نکال سکیں۔

ہایدی ہرمن نے اس موقع پر اپنی تقریر کے دوران کہا کہ سیف سپیسز کا افتتاح جرمن اور پاکستانی حکومت کے تعاون کے سفر میں ایک اور سنگ میل ہے.

انہوں نے کہا کہ اس جگہ سے لوگوں کو باالخصوص خواتین، نوجوانوں اور افغان اور پاکستان کمیونٹیز کے بچوں کو ملنے، تبادلہ خیال کرنے، تربیت، آگاہی مہم میں شرکت کرنے اور کچھ آرام دہ سرگرمیاں کرنے میں آرام محسوس کرنے کا موقع ملےگا۔

اس موقع پر انہوں نے حکومت پاکستان اور کمیونٹیز کی جانب سے منصوبے کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں ان کی حمایت اور شمولیت کی بھی تعریف کی۔

ہایدی ہرمن نے کہا کہ تربیت، تقریبات، آگاہی سیشن اور سرگرمیوں سے افغان مہاجرین اور میزبان کمیونٹیز کی سماجی ہم آہنگی اور سماجی بہبود کو تقویت ملے گی۔

فخر عالم نے اپنی تقریر میں ذکر کیا کہ سیف سپیسز ایک دوسرے کے ساتھ بحث، تبادلے اور رابطے کی راہیں فراہم کریں گی جس سے ایک دوسرے کی تفہیم کو فروغ ملے گا۔

شرکت کرنے والے کمیونٹی ممبران نے افغان مہاجرین اور میزبان برادریوں کے مسلسل تعاون پر جی آئیزیڈ، جرمن اور پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔