ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن میں اہم بیان آگیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر مشاورت مکمل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے اور نئےڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کاپراسس شروع ہوچکا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک بارپھرسول اورفوجی قیادت نےثابت کردکھایا کہ ملک کے استحکام،سالمیت ،ترقی کے لئے ادارے متحد اور یکساں ہیں۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سول ملٹری تعلقات بہترین ہیں، حکومت اور فوج کے ایک پیج پرہونےسےسسٹم کواستحکام ملتاہے، ہمارا ایک پیج پر رہناناگزیرہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف میں کوئی ناراضی ہو ، وزیراعظم سےمتعلق بیان عامرڈوگر نے پتہ نہیں کہاں سے ایجاد کیا،وزیراعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔

انھوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کیلئے ‏قانونی طریقہ استعمال کیاجائے گا اور تعیناتی سےمتعلق ایک دو دن معاملہ حل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کے معاملے پر اراکین کو اعتماد میں لیا۔

کچھ دنوں سے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کے معاملے پر افواہیں اڑ رہی تھیں، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں کابینہ کو بتایا کہ نوٹیفکیشن کے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے، ہم ایک پیج پر ہیں، یہ معاملہ جلد خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے نوٹیکفیشن کے سلسلے میں ابہام کو دور کیا گیا ہے۔

دسری جانب وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سےمتعلق ایک دودن معاملہ حل ہو ‏جائے گا ایک رول بن گیاہےکہ کم ازکم3افرادکےنام بھیجےجائیں گے وزارت دفاع کی جانب سےجوسمری بھیجی ‏جائے گی اس میں 3 نام ہوں گے۔

فوادچوہدری نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی ‏کیلئے قانون میں منظوری وزیراعظم دیتےہیں ڈی جی آئی ایس آئی کیلئےقانون میں منظوری حکومت منسوب نہیں ‏ہے جہاں وزیراعظم کی منظوری چاہیےوہاں وزیراعظم کا اختیار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کادنیامیں بہترین مقام ہے آئی ایس آئی انٹیلی جنس ورلڈمیں ٹاپ پرہےدنیاتعریف ‏کرتی ہے وزارت دفاع سےسمری سےمتعلق معلوم کرکےآگاہ کردوں گا

انہوں نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کیلئے ‏قانونی طریقہ استعمال کیاجائے گا اور تعیناتی سےمتعلق ایک دو دن معاملہ حل ہو جائے گا۔

فوادچوہدری نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات بہترین ہیں کسی قسم کاکوئی اختلاف نہیں ہے جو ایشوز آرہےہیں وہ ‏ایک دو دن میں حل ہوجائیں گے.

انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم اورآرمی چیف کی تفصیلی ملاقات ہوئی،کئی ایشوز پر گفتگو ہوئی، ‏وزیراعظم کےآرمی چیف سے اچھے اور خوشگوار تعلقات ہیں بات چیت فرینک ہوتی ہے.

وزیراعظم نےکہاہم نے ‏ہمیشہ ایک دوسرے سےکھل کربات کی ہے ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پربھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میرےآفس کی نوعیت ایسی ہےکہ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اسٹریٹیجک کمیونی کیشن ‏کےمعاملات ہیں اس لیے ملاقاتیں ہوتی ہیں، خارجہ صورتحال بھی ہے اسی لیےشاہ محمودقریشی بھی ساتھ تھے ‏موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ایک پیج پر رہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کےلیےمشکلات بڑی ہیں ہماراایک پیج پر رہنا ‏ناگزیر ہےکابینہ میں گفتگو پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگوہےاس لیےبات نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف میں کوئی ناراضی ہو، پتہ نہیں عامرڈوگر ‏صاحب نےکہاں سے باتیں بنالی ہیں۔