‘داعش سے چھٹکارا پانے کیلئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں’

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داعش سے چھٹکارا پانے کیلئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں۔

غیر ملکی جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام خطے کے لیے ناگزیر ہے، افغانستان تمام ہمسایہ ممالک کے لیے اہم ترین تجارتی گزرگاہ ہے، وسط ایشیائی ممالک افغانستان کے راستے پاکستان تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں.

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے، وہاں کے حالات ہم پر اثرانداز ہوتے ہیں، ہم کسی کا ساتھ نہیں دے رہے، ہم امن کی بات کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں افغانوں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے، امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہوا، افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آچکی ہے، جو افغانستان میں صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے طالبان کو موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے، افغانستان میں مضبوط طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں سے نمٹ سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو افغانستان کے ساتھ ہر صورت بات چیت کرنی چاہیئے، افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوئی تو اثرات بہت دور تک جائیں گے۔

طالبان نے 20 سال بعد حکومت سنبھالی ہے، طالبان نے خواتین کی تعلیم سے انکار نہیں کیا بلکہ شرعی طریقے سے حصول کی بات کی، طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ تعلیم، خواتین کے حقوق اور دیگر مسائل کو حل کریں گے.

وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی آدھی سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا نے 20 سال افغانستان میں رہ کر دیکھ لیا کہ مسائل کا حل کیا ہے، اشرف غنی کی حکومت اور ان کی سکیورٹی فورسز آج کہاں ہیں؟ امریکا نے اشرف غنی حکومت اور سکیورٹی فورسز پر بھاری سرمایہ کاری کی لیکن ناکام رہے.

انہوں نے کہا کہ کابل میں کرپٹ حکومت کی وجہ سے ہی طالبان کو شہرت ملی، 3 لاکھ افغان فوجیوں نے لڑے بغیر ہتھیار ڈالے، امریکا کو افغانستان کی صورتحال سے دھچکہ لگا، امریکی عوام کو افغانستان کی اصل صورتحال سے گمراہ رکھا گیا.

انہوں نے غیر ملی جریدے سے انٹرویو کرتے ہوے کہا کہ امریکی اس وقت صدمے میں ہیں، میرا خیال نہیں کہ وہ ابھی صورت حال کو ہضم کر پائے ہیں۔