مسلح افواج کی قیادت کا ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان کی مسلح افواج نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔

سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا.

انہوں نے کہا ہے کہ ملکی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کی.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

محسن پاکستان کی تدفین

معروف ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں کی گئی، وہ آج صبح 85 برس کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔

پاکستان کو ایٹمی قوت اور دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے والے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ عسکری قیادت سمیت عوام بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے پڑھائی، نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے لیے لوگ بڑی تعداد میں فیصل مسجد میں موجود تھے۔

حکومت کی جانب سے قومی ہیرو کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین اور اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا گیا۔

وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ محسنِ پاکستان کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ اہلِ خانہ کی خواہش پر ایچ ایٹ کے قبرستان میں ہوگی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کچھ عرصہ پہلے کورونا میں مبتلا ہوئے تھے، انہیں آج صبح طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں محسن پاکستان اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پسماندگان میں بیوہ اور 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936ء میں بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے انجینئرنگ کی ڈگری 1967ء میں نیدرلینڈز کی ایک یونیورسٹی سے حاصل کی۔

انہوں نے بیلجیئم کی ایک یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، بعدازاں انہوں نے ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔

مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا، جس کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پہلے پاکستانی ہیں، جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دو بار نشان امتیاز بھی دیا گیا، اس کے علاوہ انہیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا ڈاکٹر عبد القدیر کے انتقال پر اظہار افسوس

وزیر اعظم عمران خان نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی کوششوں کی بدولت ایٹمی قوت ہونے نے ہمیں کہیں بڑے جارح ایٹمی ہمسائے کے خلاف تحفظ دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبد القدیر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان پوری قوم کے لیے ایک مثال تھے، ڈاکٹر عبد القدیر نے پاکستان کو ایٹمی ریاست بنایا، قوم ان سے محبت کرتی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایٹمی قوت نے ہمیں کہیں بڑے جارح ایٹمی ہمسائے کے خلاف تحفظ دیا، ڈاکٹر عبد القدیر کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔

دوسری جانب مسلح افواج کے سربراہان نے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 سال کی عمر میں آج صبح انتقال کر گئے، انہیں ناسازی طبیعت کی وجہ سے رات میں اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔