سابق ​​فاٹا کی نشستوں بڑھانے کے لیے نیا قانونی پیش کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ سابق فاٹا میں خوشحالی اور ترقی فاٹا کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دور کا اعاز ھو گا۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا خطے کے بدلتے ہوئے ماحول کے لیے سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے جبکہ اسپیکر اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ انضمام کے بعد فاٹا کو چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خطہ کے حالات خاص طور پر افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سابق فاٹا پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور صوبائی نمائندوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ وہ فاٹا کو خوشحال خطہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے شرکاء کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سابقہ فاٹا کی ترقی کے تحت بنائے گئے تین ورکنگ گروپس کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاٹا کے لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے قومی حمایت بھی لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سابق فاٹا اور کے پی کے کے عوامی نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ این ایف سی اور قومی اسمبلی کی نشستوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قومی اور سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے سندھ اور بلوچستان کا متفق ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں مردم شماری کو ڈیفیکٹو بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ کل فاٹا سے تعلق رکھنے والے عمائدین کمیٹی کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

انہوں نے شرکاء کو صوبہ کے پی کے میں لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کے نئے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ ڈاکٹر حیدر علی نے این ایف سی میں 3 فیصد حصہ کے لیے حصول کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کی کاوشوں کو سراہا۔

ایم پی اے نعیمہ کشور نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے پیچھے فاٹا کے عوام کی ملکی سیاست میں شمولیت کی خواہش کار فرما تھی۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے سینیٹ میں زیر التوی بل کا زکر کیا۔ انہوں نے فاٹا میں مردم شماری کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔

ممبر قومی اسمبلی جواد حسین فاٹا کی نشستوں کو بڑھانے کے لیے زیر التوی بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔

ممبر قومی اسمبلی خالد حسین مگسی نے کہا کہ سابق فاٹا کو اب آئینی تحفظ حاصل ہے اور ان علاقوں میں ترقی اور عوام کی سیاسی عمل میں شمولیت کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ھونے چاھیے۔

ایم این اے فخر زمان نے کہا کہ سابق فاٹا کی ترقی کے لیے سو ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کا وعدہ ابھی تک کھٹائ کا شکار ھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی کا 3 فیصد حصہ ترجیحی بنیاد پر فاٹا کو ملنا چاہیے۔ ممبر قومی اسمبلی ساجد خان نے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں حد بندی کے مسائل کا زکر کیا۔

گورننس کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے چیلنجز سے نبٹنے کے لیے قانون سازی اور سیاسی کی ضرورت ہے۔

ایم این اے گل ظفر خان نے کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز مہیا کرنے سے علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ھو گا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کی صورتحال پورے ملک کی ترقی کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سابق فاٹا کی بارہ نشستیں برقرار رکھی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ڈی فیکٹو بنیاد پر مردم شماری ڈی حمایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاٹا کے عوام کے لیے خصوصی کوٹہ سسٹم بھی برقرار رکھا جائے۔

ایم این اے محمداقبال خان نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں عوام کو لینڈ ریکارڈ کے معاملات میں مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ جلد از جلد لینڈ ریکارڈ اصلاحات شروع کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ترقی کے لیے وفاقی حکومت مزید فنڈز مہیا کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فاٹا میں عدالتی نظام کو فعال بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے پولیس ، عدلیہ اور ریگولیشن کے معاملات کا بھی ذکر کیا۔ ایم پی اے نعیمہ کشور نے فاٹا انضمام کو فاٹا کے عوام کی کامیابی قرار دیتے ہوے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ھے۔

انہوں نے تجویز دی کہ خواتین کی تعلیم یا صحت کے مراکز کا تعمیری کام فورا شروع کیے جانے چاہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا میں مردم شماری کے معاملے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ممبر کے پی کے اسمبلی مولانا صلاح الدین نے فاٹا انضمام کے فیصلے کا ذکر کرتے ھوۓ کہا کہ انضمام کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔

مولانا نے سڑکوں، سکولوں کی دگرگوں حالات اور صحت کی سہولیات کی کمی کا زکر بھی کیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ان مسائل کو تحریری شکل میں پیش کرنے کا کہا تاکہ کمیٹی ان معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھا سکے۔

انہوں نے صوبائی سطح پر بھی سابق فاٹا میں ترقی کے حوالے سے ایسی خصوصی کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا میں مقیم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ضلع مہمند منتخب ممبر صوبائ اسمبلی نثار خان مہمند نے صوبائی نمائندوں کی سفارشات کو کمیٹی کی رپورٹ شامل کرنے کا کہا۔

بعد ازاں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے اتفاق رائے پیدا کرتی رہے گی اور فاٹا کے لوگوں کے لیے تجارت اور روزگار کے مواقع لانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی