بلوچستان زلزلہ: پاک آرمی کے 2 ہیلی کاپٹر امداد کے لیے پہنچ گئیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔

صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق زلزلہ جمعرات کی علی الصبح 3 بجے آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی۔

ضلع ہرنائی کے ڈپٹی کشمنر سہیل انور نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہلاکتیں گھروں کی چھتیں گرنے کے سبب ہوئیں جبکہ مرنے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر سہیل انور کے مطابق 100 سے زائد کچے مکانات منہدم جبکہ بڑی تعداد میں مکانات نقصان پہنچا جس میں سرکاری عمارات بھی شامل ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ریسکیو ورکرز کے حوالے سے بتایا گیا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں، زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں سڑک پر فون کی ٹارچ کے ذریعے اسٹریچرز پر ان کا علاج کیا گیا۔

نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبے کے ضلع ہرنائی کے قریب 15 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ، سبی، پشین، مسلم باغ، زیارت، قلعہ عبداللہ، سنجوانی، ژوب اور چمن میں بھی محسوس کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا درست اندازہ ابھی نہیں ہوسکا.

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نصیر احمد نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہوئے ہیں، ہرنائی کے 15 کلومیٹر تک کے علاقے میں مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو نے بتایا کہ 5 سے 6 اضلاع بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے اور اعداد و شمار اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اموات اور زخمیوں کی سب سے بڑی تعداد ضلع ہرنائی میں رپورٹ ہوئی جبکہ تشویشناک مریضوں کو کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی نے بتایا ہے کہ ہرنائی میں تمام امدادی کارروائیاں اور انخلا کا عمل جاری ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل، مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں کو ہائی الرٹ اور موبلائز کردیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خون ، ہنگامی امداد، ہیلی کاپٹر اور دیگر تمام اشیا کا بندو بست کرلیا گیا ہے اور تمام محکمے اس سلسلے میں کام کررہے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں بھی کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

اس سے قبل سال 2017 میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی مکران میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ سال 2013 ستمبر کے مہینے میں ضلع آوران میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانئے پر تباہی ہوئی تھی جبکہ مذکورہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.7 ریکارڈ کی گئی تھی جس سے آوران کے 80 فیصد سے زائد کچے مکانات تباہ ہوگئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کے زلزلے سے متعلقہ حادثات میں خواتین اور بچو سمیت 515 افراد جاں بحق جبکہ 6 سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔