خیبرپختون خواہ محفوظ ترین سیاحتی مقام قرار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر اچانک سیریز منسوخ کر کے وطن واپسی پر ہر شخص خدشات کا شکار تھا کہ شاید اب غیرملکی پاکستان آنے سے گریز کریں گے۔

بلیک کیپس کے بعد انگلش کرکٹ بورڈ نے بھی اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کیا تو اس کے بعد سب ہی ہیجاتی کیفیت سے دوچار تھے، جس کی ایک وجہ انٹرنیشنل ٹیموں اور دوسرا غیرملکی سیاحوں کی آمد نہ ہونا تھی۔

جہاں نیوزی لینڈ اور انگلش کرکٹ ٹیم نے سیکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنایا وہیں دیگر عالمی کھلاڑیوں نے پاکستان کو محفوظ ترین ملک قرار دیا اور اس الزام کی خود ہی تردید کی۔

اب ایک بار پھر پاکستان پر چھائے سیاہ بادل چھٹنے لگے ہیں کیونکہ غیر ملکی سیاحوں نے وطن عزیز آنا شروع کردیا ہے۔

حال ہی میں جرمنی، آسٹریا، نیوزی لینڈ سے درجن بھر سیاح چترال پہنچے، جہاں اُن کا شہریوں نے پرتپاک استقبال کیا اور سرکاری کی طرف سے بھرپور خاطر تواضع کی گئی۔

سیاحوں سے سرکاری حکام نے ملاقاتیں کیں، جس میں انہوں نے خیبرپختون خواہ کو محفوظ ترین سیاحتی مقام قرار دیتے ہوئے حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔

غیرملکی سیاحوں کا کہنا تھا کہ ’یہاں کسی قسم کا ڈر اور خوف نہیں اور ہم خود کو غیر محفوظ بھی محسوس نہیں کررہے، چترال پہنچ کر خوشی ہوئی یہاں شہریوں نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا‘۔

وزیراعلیٰ خیبرپختون خواہ نے کہا کہ صوبائی حکومت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو ہر ممکن بہترین سہولیت فراہم کررہی ہے، پاکستان اور اس کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن ، ثقافتی ورثے سے مالامال ہیں۔

انہوں نے غیرملکی سیاحوں کو خیبرپختون خواہ پہنچنے پر خوش آمدید کہا اور روایتی انداز سے اُن کا استقبال بھی کیا۔