پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس آئی جبکہ فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے عمل میں لائے گئے جس کے مطابق آئی ایس آئی کی کمان فیض حمید سے جنرل ندیم انجم کو سونپ دی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا نیا ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کو کور کمانڈر کراچی، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تعینات کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل عاصم ملک کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاک فوج کا ایجوٹینٹ جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

قبل ازیں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم اس سے پہلے کور کمانڈر کراچی تعینات تھے۔ فیض حمید کو 16 جون 2019ء کو عاصم منیر کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا۔

فیض حمید ترقی کے وقت آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس کے طور پر کام کر رہے تھے۔

آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس وقت ڈی جی آئی ایس آی مقرر کیا گیا تھا، جب ملک کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوگیا تھا۔

کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اس وقت ایڈجسٹنٹ جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ جنرل آفیسر کمانڈنگ لاہور کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نومبر 2020ء میں کور کمانڈر کراچی کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ ستمبر 2019ء میں انہیں میجر جنرل سے لیفٹینیٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

کراچی کور کی کمان سے قبل وہ آئی جی ایف سی بلوچستان تعینات تھے۔ جنرل ندیم احمد انجم کمانڈنٹ سٹاف کالج کوئٹہ بھی رہ چکے ہیں۔

ندیم احمد انجم کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 77 لانگ کورس میں پاس آؤٹ ہوئے تھے۔

جنرل ندیم احمد انجم کا تعلق گوجر خان سے ہے۔ انہوں نے لندن رائل ملٹری کالج سے دو سالہ ڈگری بھی حاصل کی ہوئی ہے۔

بطور بریگیڈیئر لیفٹینیٹ جنرل ندیم احمد انجم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انسٹرکٹر رہے ہیں جبکہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنرل ندیم ہنگو میں دو سال بریگیڈ کمانڈر کے بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جون 2019 میں ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیے گئے تھے۔ اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ان کی ترقی ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق چکوال سے ہے۔ فوج میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد وہ بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے۔

اس سے قبل وہ راولپنڈی میں ٹین کور کے چیف آف سٹاف، پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس (سی آئی) سیکشن بھی رہ چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کو صدرِ پاکستان ہلالِ امتیاز ملٹری کے اعزاز سے بھی نوازا چکے ہیں۔ جنرل فیض حمید کا نام 2017 میں منظرعام پر آیا تھا جب تحریک لبیک نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا اور اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر کئی دنوں تک دھرنا دیا۔

جنرل فیض اس دھرنے کو ختم کرانے میں اہم کردار ہونے کے باعث خبروں میں رہے۔ پانچ سے 26 نومبر 2017 تک جاری رہنے والا تحریک لبیک کا دھرنا انتخابی فارموں میں ایک ترمیم کی بنا پر دیا گیا تھا (جسے بعد میں حکومت نے واپس بھی لے لیا)۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اُس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔ یہ 20 روزہ دھرنا حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات ماننے اور وزیر قانون کے استعفے کے بعد ختم ہوا۔

تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور احسن اقبال سمیت کسی حکومتی شخصیت سے نہ مذاکرات ہوئے اور نہ معاہدہ بلکہ مذاکرات جنرل فیض سے ہوئے اور وہی ضامن بھی ہیں۔

بعد ازاں جنرل فیض حمید کا دورہ کابل بھی سرخیوں میں رہا جس کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ دورہ غیر رسمی فریم ورک تشکیل دینے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔