سکھ حکیم کے قتل میں 4 ہزار افراد کے موبائل فون ڈیٹا کی جانچ پڑتال

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ستمبر 30 کو پشاور میں واقع مطب میں سکھ حکیم کے قتل کی تفتیش کے دوران 4 ہزار افراد کے موبائل فون ڈیٹا کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے۔

پشاور پولیس کی 15 رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم گولڈ میڈلسٹ حکیم سردار ستنام سنگھ کے قتل کا سراغ لگانے پر مامور ہے، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کو 4 الگ ٹیموں میں تقسیم کیا گیا ہے

رپورٹ کے مطابق ایک ٹیم انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرے گی، دوسری ٹیم کو مشتبہ افراد کے انٹرویوز اور ڈیٹا اکھٹا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، تیسری ٹیم موبائل فون کالز اور ڈیٹا پر کام کر رہی ہے جب کہ چوتھی ٹیم کو پشاور اور دیگر اضلاع میں گرفتاریوں کی ذمہ داریاں ملی ہیں۔

تفتیشی ٹیم اب تک سامنے آنے والے حقائق کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قتل کا واقعہ معمول کی ٹارگٹ کلنگ نہیں، اس قتل کے محرکات کچھ اور ہیں، کلینک میں کام کرنے والے نوجوان سے بھی انٹرویو کر لیا گیا ہے.

رپورٹ کے مطابق تفتیشی ٹیم نے واقعے کے روز جائے وقوعہ کی جیو فینسننگ کی ہے، اس کے تحت 4 ہزار موبائل کے موبائل فون کالز اور ان کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے

اس کے علاوہ مقتول حکیم کے مطب میں آنے والی خواتین اور مرد مریضوں کے ڈیٹا پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

 آئی جی خیبر پختونخوا کی مقتول سکھ حکیم کے اہلخانہ سے ملاقات

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے چارسدہ روڈ پشاور میں واقع اس جگہ کا معائنہ کیا جہاں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے معروف سکھ حکیم ستنام سنگھ کو قتل کردیا تھا

چیف کپیٹل سٹی آفیسر پولیس پشاور، ایس ایس پی آپرشنز پشاور اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام بھی اس موقع پر آئی جی پی کے ہمراہ تھے۔

آئی جی پی نے جائے وقوعہ کا مختلف زاویوں سے معائنہ کیا اور متعلقہ پولیس حکام کو ضروری ہدایات دیں اور ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کرکے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا حکم دیا۔

آئی جی پی نے کہا کہ یہ وقوعہ پشاور پولیس کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور پشاور پولیس کو ملزموں کی گرفتاری کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے کی ہدایت کی ۔

علاوہ ازیں بعد ازاں آئی جی پی معظم جاہ انصاری مقتول کے خاندان اور سکھ کمیونٹی سے اظہار تعزیت کے لئے گوردوارہ جوگن شاہ گئے۔ جہاں انہوں نے مقتول کے ورثاء سے ملاقات کی اور لواحقین سے اپنی دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

آئی جی پی نے سوگوار خاندان کے افراد کو یقین دلایا کہ اس بیہمانہ قتل میں ملوث ملزمان کو ہر قیمت پر بہت جلد گرفتار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پشاور کی مصروف شاہراہ چارسدہ روڈ پر پولیس تھانہ فقیرآباد سے تقریبا 100 میٹر کے دور واقع چارسدہ بس اسٹینڈ کے سامنے معروف سکھ حکیم سردار ستنام سنگھ معمول کے مطابق اپنے مطب میں بیٹھے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مطب میں داخل ہوکر ان پر قاتلانہ حملہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول سکھ حکیم کو چار گولیاں ماری گئیں، قتل کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی مگر پولیس حکام اسے ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

پولیس نے ابتدائی طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف روزنامچہ درج کرلیا جبکہ باقاعدہ ایف آئی آر اندراج کل کیا جائے گا۔

حکیم سردار ستنام سنگھ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی۔ جن کی آخری رسومات کل صبح دس بجے اٹک کے مقام خیر آباد دریائے سندھ کے کنارے شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے حکیم ستنام سنگھ کے قتل کی شدید مذمت کی اور میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

نیشنل کونسل فار طب کے سند یافتہ گولڈ میڈلسٹ حکیم ستنام سنگھ طویل عرصے سے پشاور میں حکمت کررہے تھے۔ مقتول حکیم سردار ستنام سنگھ تحریک تجدید طب پشاور کے صدر جبکہ سپریم کونسل تحریک تجدید طب پاکستان کے ممبر بھی تھے۔

سردار ستنام کے قتل کی اطلاع ملنے کے بعد پشاور اور خیبرپختون خواہ میں مقیم سکھ برادری کے افراد اور رکن صوبائی اسمبلی روی کمار اُن کی رہائش گاہ محلہ جوگن شاہ ڈبگری تعزیت کے لیے پہنچے۔

یاد رہے کہ اپریل 2014 میں ضلع چارسدہ کے علاقہ شبقدر میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے پشاور سے تعلق رکھنے والے سکھ حکیم بابا جی پرم جیت سنگھ کو قتل کیا تھا۔