پشاور : سکھ حکیم کے قتل پر وزیراعلیٰ خیبرپختون خواہ کا نوٹس

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبرپختون خواہ کے دارالحکومت میں مسلح افراد نے مطب میں داخل ہوکر فائرنگ کر کے سکھ حکیم کو قتل کردیا۔

پشاور کی مصروف شاہراہ چارسدہ روڈ پر پولیس تھانہ فقیرآباد سے تقریبا 100 میٹر کے دور واقع چارسدہ بس اسٹینڈ کے سامنے معروف سکھ حکیم سردار ستنام سنگھ معمول کے مطابق اپنے مطب میں بیٹھے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مطب میں داخل ہوکر ان پر قاتلانہ حملہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول سکھ حکیم کو چار گولیاں ماری گئیں، قتل کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی مگر پولیس حکام اسے ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

پولیس نے ابتدائی طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف روزنامچہ درج کرلیا جبکہ باقاعدہ ایف آئی آر اندراج کل کیا جائے گا۔

حکیم سردار ستنام سنگھ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی۔ جن کی آخری رسومات کل صبح دس بجے اٹک کے مقام خیر آباد دریائے سندھ کے کنارے شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے حکیم ستنام سنگھ کے قتل کی شدید مذمت کی اور میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

نیشنل کونسل فار طب کے سند یافتہ گولڈ میڈلسٹ حکیم ستنام سنگھ طویل عرصے سے پشاور میں حکمت کررہے تھے۔ مقتول حکیم سردار ستنام سنگھ تحریک تجدید طب پشاور کے صدر جبکہ سپریم کونسل تحریک تجدید طب پاکستان کے ممبر بھی تھے۔

سردار ستنام کے قتل کی اطلاع ملنے کے بعد پشاور اور خیبرپختون خواہ میں مقیم سکھ برادری کے افراد اور رکن صوبائی اسمبلی روی کمار اُن کی رہائش گاہ محلہ جوگن شاہ ڈبگری تعزیت کے لیے پہنچے۔

یاد رہے کہ اپریل 2014 میں ضلع چارسدہ کے علاقہ شبقدر میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے پشاور سے تعلق رکھنے والے سکھ حکیم بابا جی پرم جیت سنگھ کو قتل کیا تھا۔