حکومت کا کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروپس سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہتھیارڈالے تو انہیں معاف کردیں گے، انہیں غیر مسلح کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں، افغان طالبان مصالحت کار ہیں۔

وزیراعظم عمرا ن خا ن نے ترک ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے گروپس کے ساتھ افغانستان میں مذاکرات ہورہے ہیں، مذاکرات میں افغان طالبان ثالث کا کردار اداکررہےہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے بعض لوگ امن مذاکرات کےلیے رضامندہیں، وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کردیں گے۔ ہم امن کیلئےبات چیت پریقین رکھتےہیں، مذاکرات ہی آگےبڑھنےکاواحدراستہ ہے

وزیر اعظم عمران خان نے کہا پاکستان اگر طالبان کو تنہاتسلیم کر بھی لے تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، سوال یہ ہے کہ امریکا افغان حکومت کو کب تسلیم کرے گا، ترجیحاً یہ ہونا چاہیے کہ چین، روس اور دیگر یورپی ممالک بھی طالبان کو تسلیم کریں۔ امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرناہوگا

انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں ناکامی پر امریکا قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہے۔ امریکی پالیسیوں پر تنقید کا مطلب امریکا مخالف ہونا نہیں۔ افغانستان کی صورت حال کا کوئی بھی ذمہ دار ہو لیکن پاکستان اس کا ذمہ دار نہیں، ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا

وزیر اعظم عمران خان نےانٹرویو میں امریکی صدر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے حوالے سے بائیڈن پر تنقید بلاجواز ہے۔ مجھے ان سے ہمدردی ہے، یہ ان پر ہے کہ وہ کب فون کرتے ہیں۔ ملکی سربراہوں میں ٹیلی فونک رابطہ محض رسمی ہوتا ہے۔

انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو معاشی امداد کی ضرورت ہے، دنیا نے مدد نہ کی تو افغان حکومت گر جائے گی

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان کے مسئلےکا حل فوجی نہیں،کسی بھی مسئلے کا حل طاقت کی بجائے مذاکرات ہیں۔ پشتون روایت میں انتقام عام بات ہے ،کوئی ان کے گھرمیں گھس کر مارےتو وہ ردعمل تودیں گے ۔ افغانستان میں پشتون بڑی تعداد میں آباد ہیں۔افغانستان نےکبھی بیرونی طاقتوں کوقبول نہیں کیا

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی جانوں کی قربانیاں دیں مگر تسلیم نہیں کیاگیا۔ہماری قربانیوں کو نظر انداز کرکے الزام تراشی کی گئی۔ سب جانتے ہیں افغانستان میں تربیت یافتہ فورسز کے ہتھیارڈالنے کا ذمہ دار کون ہے۔ دنیا کے بعض ممالک کا پاکستان کے ساتھ رویہ دہرے معیار کاہے۔

انہوں نے افغانستان میں طالبان کی جامع حکومت کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ طالبان نے جامع حکومت نہ بنائی تواختلافات سامنے آئیں گے۔افغانستان میں ازبک،تاجک اور ہزارہ رہتے ہیں۔ طالبان کوازبک ،تاجک اورہزارہ کوحکومت میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے

عمران خان ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ٹی اوآرز بنائیں‘‏

سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کےساتھ مذاکرات کےحق میں ہوں عمران خان ٹی ٹی پی ‏کے ساتھ مذاکرات کے لیے ٹی او آرز بنائیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کےساتھ مخلص نہیں ہے ‏حکومت اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تو امن ہونا چاہیےتھا کیونکہ قوم کوتوقع تھی ٹی ٹی پی ‏سے مذاکرات ہوئےتوامن ہو گا۔

رحمان ملک نے کہا کہ ٹی ٹی پی نےہمیشہ مذاکرات کو تاخیری حربےکے طور پر استعمال کیا ٹی ٹی پی مذاکرات ‏کے نتیجہ خیزمرحلےپرمکر جایا کرتی ہے ٹی ٹی پی کے25ہزار دہشت گرد نورستان میں موجود ہیں اور ساڑھے7ہزار ‏ناراض بلوچ نورستان پہنچ چکےہیں۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیرداخلہ ٹی ٹی پی سے 3 بار مذاکرات کئےتھے عمران خان ٹی ٹی پی کےساتھ مذاکرات ‏کے لیے ٹی او آرز بنائیں اور پارلیمنٹ میں پیش کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان وزیرداخلہ بینظیر بھٹو کےقتل میں ملوث اکرام محسود کو سزا دیں۔

 بلوچ عسکریت پسندوں کیساتھ بھی بات چیت 

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے ترک ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔

عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ ہم تحریک طالبان کے چند گروپوں کے ساتھ افغانستان میں بات چیت کر رہے ہیں، کالعدم تحریک طالبان والے ہتھیار ڈال دیں تو ہم انہیں معاف کر دیں گے، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہی.

انہوں نے کہا کہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں اور ان میں سے جو گروپس مفاہمت کے خواہش مند ہیں، ہم ان سے سیاسی مفاہمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے، دہشت گردی کا حل ڈرون حملے نہیں۔

سوال یہ ہے کہ امریکا طالبان کو کب تسلیم کرے گا، کیونکہ صرف پاکستان کے طالبان کو تسلیم کرنے سے فرق نہیں پڑتا، امریکا، یورپ، چین اور روس کو بھی افغان طالبان کو تسلیم کرنا ہوگا، امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں حکومت سازی میں مداخلت ختم کرنا ہوگی، پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں جامع حکومت ہو، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا

انہوں نے کہا کہ افغان شہری غیر ملکی تسلط تسلیم نہیں کرتے، افغانستان میں افراتفری پھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان افغان شہریوں کو ہوگا، سرحد کے دونوں جانب پشتون عوام رہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان صورتحال کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے، نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔

صدر بش کا پاکستان کو یہ کہنا کہ ہمارے ساتھ ہو یا نہیں، تکبرانہ رویہ تھا، جنرل کیانی نے بھی امریکی صدر اوباما کو آگاہ کیا تھا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کرو تو امریکا مخالف کہا جاتا ہے، ادھر پاکستانی طالبان ہمیں امریکا کا حامی کہہ کر ہم پر حملے کرتے ہیں، پاکستان کو تعریف کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پاکستانی اور امریکی وزرائے خارجہ رابطے میں ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی امریکی سکیورٹی انٹیلی جنس کے سربراہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

جو ہتھیار پھینک دے اس سے لڑنا جائز نہیں

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ عالمی منظر نامہ تبدیل ہونے جا رہا ہے، جو ہتھیار پھینک دے، اس سے لڑنا جائز نہیں ہے، جنہوں نے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا، ان کا کیس الگ ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ طالبان سے بات چیت کی ابتداء ہو رہی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا ہے، ہماری منصوبہ بندی دو چار سال کی نہیں، 20 سال کی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جو آرہا ہے، دل کشادہ ہے، جو نہ آئے خدا حافظ، واپسی کے دستخط امریکا نے کیے ہیں، ہم نے تو نہیں کئے، ہم افغان بحران میں ہر ممکن مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے الیکشن کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے، اب طالبان سے بات چیت کی ابتداء ہو رہی ہے، بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی، ابھی تو آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے دشمنوں سے کونے کونے میں نمٹیں گے، دہشت گردی کو ختم کرکے دم لیں گے، دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔

تحریک طالبان کو سوچ سمجھ کر ہی معافی دینے کا فیصلہ

ٹی ٹی پی کو معافی دینے کے حوالے سے طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ قوم کو قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے شکست کے بعد بھارت کو خواب میں بھی پاکستان نظر آتا ہے، بھارت کو کم از کم رونے کا حق تو دینا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے محرم الحرام کے دوران ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی بہت کوشش کی، مگر علماء کے ذمہ دارانہ کردار سے بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی فضا قائم کریں گے، جس میں تکفیریت کا وجود ہی نہیں ہوگا، ہر مکتب فکر دوسرے مکتب کے مقدسات کا احترام کرے گا۔

ٹی ٹی پی سے بات کرتے ہوئے اے پی ایس کے بچوں کو ذہن میں رکھیں’

مسلم لیگ ن کے رہنما ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے قبل سب کو اعتماد میں لیتے تو اچھا تھا ، ٹی ٹی پی سے بات کرتے ہوئےاے پی ایس کےبچوں کو ذہن میں رکھیں۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے متعلق وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے ن لیگی رہنما نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے قبل سب کو اعتماد میں لیتے تو اچھا تھا ، ٹی ٹی پی سے بات کرتےہوئےاے پی ایس کےبچوں کو ذہن میں رکھیں ۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا ٹی ٹی پی آئین ہماری طرز سیاست سے مطمئن ہیں یا آئین کو مانتے ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی میں کچھ لوگ پاکستان کیساتھ وفا کاعہد نبھانا چاہتے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی میں کچھ لوگ پاکستان کیساتھ وفا کا عہد نبھانا چاہتے ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع دینا چاہیئے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے بیان کو لے کر کافی گفتگو ہو رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ ضروری ہے اس کا پس منظر سامنے رکھا جائے، ریاست پاکستان ایک آگ اور خون کے دریا سے ہوکر نکلی ہے، ہم نے ہزاروں لوگوں کی قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں قربانیوں کے نتیجے میں ہم نے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کو شکست دی، بھارت کی ریشہ دوانیوں کو مکمل طور پر ختم کیا، الحمد للہ پاکستان پہلے سے زیادہ مضوط و پرعزم کھڑا ہے، اب ضرورت ہے آگے چلنے کی، ریاست کی پالیسیاں مخصوص پس منظر میں بنتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بے شمار لوگ جو پاکستان کے ساتھ وفاداری عہد نہیں نبھا سکے، وہ یہ عہد نبھانے واپس آنا چاہتے ہیں، بلوچستان میں 3 ہزار سے زیادہ وہ لوگ جو ناراض تھے، جو بھارت کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوئے، وہ واپس آچکے ہیں

انہوں نے زید کہا کہ اسی طریقے سے کالعدم ٹی ٹی پی کے مختلف گروہ ہیں، ان گروہوں میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو پاکستان کے ساتھ وفا کا عہد نبھانا چاہتے ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ایک صلح جو، امن پسند اور آئین کو مان کر آگے چلنے کا عہد کرنا چاہتے ہیں، ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ریاست کو موقع دینا چاہیئے، چاہتے ہیں کہ وہ زندگی کے دھارے میں واپس آسکیں.

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جو آج اصول وضع کئے ہیں، جن کے اوپر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم اپنے آئین و قانون کے دائرے میں مخصوص حالات کے پیش نظر پاکستان کے راستے سے جدا ہونے والوں کو واپس راستے پر لانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ پاکستان کے ایک عام شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکیں۔