پنڈورا پیپرز : اشرافیہ کی ناجائز دولت بےنقاب ہو گئی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

بحر اوقیانوس کے کنارے پر واقع ملک پاناما کی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے نے پنڈورا پیپرز جاری کردیے، جن میں آف شور کمپنیاں بنانے والے دنیا بھر کے 130 ارب پتی شخصیات کے نام شامل ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان یا اُن کے اہل خانہ کے نام پر کوئی آف شور کمپنی نہیں نکلی۔

عالمی تحقیقاتی آئی سی آئی جے نے ایک بار پھر ٹیکس چھپانے کے لیے بنائی جانے والی کمپنیز اور مالکان کے نام کی تفصیلات جاری کردیں۔

نامور افرادکےکالےدھن سے متعلق دنیاکی سب سےبڑی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد آئی سی آئی جےکی جانب سے’’پنڈوراپیپرز‘‘جاری کردی گئیں۔

آئی سی آئی جے کے مطابق مالی امور کی تحقیقات دو سال میں مکمل کی گئی، جس میں 117 ممالک کے 150 میڈیا اداروں کے 600 صحافیوں نے تحقیقات کیں۔

پینڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جبکہ یہ ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہے۔

پنڈورا پیپرز میں 200 سے زائد ممالک کی 29000 آف شورکمپنیوں کا پردہ فاش کیا گیا، جن کی ملکیت45 ممالک سے تعلق رکھنے والی 130 ارب پتی شخصیات کے پاس ہے۔

آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز میں 14 آف شور سروس فرمز شامل ہیں، چیک ری پبلک اور لبنان کے وزرائے اعظم بھی آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے ہیں۔

پنڈورا پیپرز کیلئے آئی سی آئی جےنے تقریباً3 ٹیرا بائٹس کی خفیہ معلومات حاصل کیں۔ آئی سی آئی جے کے مطابق سب سےزیادہ لاطینی امریکاکی کمپنی نے14ہزارشیل کمپنیاں اور ٹیکس ہیونز ٹرسٹ بنائے۔

عالمی سیاست دان

پنڈورا پیپرز میں 6 بھارتی، 7 پاکستانی، چین کے2 ، یو اے ای کے11، روس کے 19 ، برازیل کے9، یوکرین کے 38 اور نائیجیریاکے 10، برطانیہ کے 9 اور سعودی عرب کے پانچ سیاست دانوں کے نام شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں اٹلی کے4،انڈونیشیا2، فرانس کے 3، اسپین کے5، پرتگال کے3، روس کے 19 اوربرازیل کے 9، یوکرین کے 38 اور نائیجیریا کے 10، کولمبیا کے 11، ارجنٹینا کے 4، رومانیا کے 2،مراکش کے 3سیاستدانوں کےنام بھی شامل ہیں۔

عالمی صدور اور وزرائے اعظم کے نام

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور آذر بائیجان کے صدر کے نام بھی شامل ہیں، اسی طرح کینیاکے صدر اوہورو کینیتا، چیک صدر آندریج بابیز نےآف شور کے ذریعے 22ملین ڈالرز کی جائیدادخریدی تھی۔ یوکرین، کینیا اور ایکوا ڈور کے صدو رنےآف شورکمپنیاں بنائیں۔

پینڈورا پیپرز میں 300 سے زائد عوامی عہدہ رکھنے والوں کے نام شامل

چیک ری پبلک اورلبنان کے وزرائے اعظم ، اردن کےبادشاہ شاہ عبداللہ ، ڈومینک ری پبلک کےصدر،آئیوری کوسٹ کےوزیر اعظم، مونٹی نیگرواورچلی کے صدر، سری لنکاکی سابق وزیر، گبون کےصدر،کانگو کے وزیراعظم، مراکش کی شہزادی، ہانگ کانگ کے سابق سی ای او، بحرین اورموز مبیق کےسابق وزرائے اعظم، اردن کے 2 سابق وزرائےاعظم، ایل سلواڈور کے 2 سابق صدور، پاناما کے 4سابق صدور، لبنان کےسابق وزیراعظم حسن دیاب، قطرکےسابق امیرشیخ صباح الاحمدالصباح.

رپورٹ کے مطابق قطرکےسابق وزیراعظم حمادبن جاسم الثانی، چین کے صوبے ہنانکی نمائندہ کیافینگ، سابق آئی ایم ایف سربراہ ڈومینک اسٹراس، برازیل کے وزیر معاشیات،سربیا کے وزیرخزانہ، کولمبیا کے سابق صدر، جارجیا کے سابق وزیراعظم، منگولیا اور ہیٹی کے سابق وزرائے اعظم، پیرو گوئے اورپیرو کے سابق صدور، مالٹاکےسابق یورپی یونین کمشنر، تیونس کے سابق وزیر، بھارتی بزنس مین انیل امبانی بھی 18 آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے۔

پاکستانی سیاست دان و دیگر شخصیات کے نام

آئی سی آئی جے کی فہرست میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین آف شور کمپنی کے مالک نکلے، اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے صاحبزادے عبداللہ مسعود، وفاقی وزیر مونس الٰہی، سینیٹر فیصل واؤڈا، وزیر صنعت خسرو بختیار، پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن، میجرجنرل(ر)نصرت نعیم, جنرل (ر)افضل مظفرکے بیٹےحسن مظفر، سی ای اوابراج گروپ عارف نقوی، جنرل (ر)شفاعت اللہ،کرنل (ر)راجہ نادرپرویز، زہرہ تنویراہلیہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر طاہر، شہناز سجادہمشیرہ جنرل(ر)علی قلی خان، امپریل شوگرمل کے مالک نویدمغیث شیخ، ٹریڈربشیرداؤد،نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی، جنرل(ر)خالدمقبول کے داماد احسن لطیف، علی جہانگیرصدیقی، مرچنٹ آصف حفیظ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کےایم ڈی عدنان آفریدی، لیفٹیننٹ جنرل(ر)شفاعت اللہ شاہ، میجرجنرل(ر)نصرت نعیم کا نام بھی شامل ہے۔

فہرست کے مطابق کاروباری شخصیت عارف شافی، سابق ایئرمارشل عباس خٹک کے بیٹوں عمراور احدخٹک، ایگزٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ بھی آف شور کمپنی کے مالک نکلے۔

پنڈورا پیپرز کا خیرمقدم

وزیراعظم عمران خان نے دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے ’پنڈوراپیپرز‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ‏حکومت پنڈورا پیپرز میں آنے والے تمام پاکستانیوں کی تحقیقات کر کے ان کے خلاف ایکشن لے گی۔ ‏

ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنڈوراپیپرز کی تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں اشرافیہ ‏نے ٹیکس چوری، کرپشن سے ناجائزدولت بنائی، اشرافیہ نےناجائزدھن کومالیاتی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ‏کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیکٹی کےمطابق تقریباً7ٹریلین ڈالرمحفوظ پناہ گاہوں میں رکھےگئے جس میں زیادہ تر آف ‏شور کمپنیوں کے ذریعےمنتقل کیےگئے پنڈوراپیپرز میں اشرافیہ کی ناجائزدولت بےنقاب کردی ہے۔

ٹوئٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نےہندوستان کی دولت لوٹی تھی ایسےہی حکمران طبقے نے ‏اپنے ملکوں کی دولت لوٹی، غریب ملکوں کاپیسہ روکنےکیلئےامیرملک کچھ نہیں کرتے امیرملکوں کےپاس جو ‏غریب ممالک کا پیسہ ہے واپس بھی نہیں کرتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 20سال کی جدوجہداسی یقین پرہےکہ کرپشن سےکئی ممالک غریب ہیں، غریب ممالک ‏کے عوام پرپیسہ خرچ ہونے کے بجائےآف شور میں جاتاہے کرپشن کی وجہ سےغریب ملکوں کی کرنسی بےقدر ‏ہو چکی ہے غربت کی وجہ سےغریب ممالک میں ہزاروں لوگ ناحق جان سےجاتےہیں۔

عالمی تحقیقاتی آئی سی آئی جے نے ایک بار پھر ٹیکس چھپانے کے لیے بنائی جانے والی کمپنیز اور مالکان کے نام ‏کی تفصیلات جاری کردیں۔

آئی سی آئی جے کے مطابق مالی امور کی تحقیقات دو سال میں مکمل کی گئی، جس میں 117 ممالک کے 150 ‏میڈیا اداروں کے 600 صحافیوں نے تحقیقات کیں۔ پینڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں ‏جبکہ یہ ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہے۔

‏’وزیراعظم سرخرو، کوئی آف شور کمپنی نہیں‘‏

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں نے کافی کوشش کی اور وزیراعظم عمران خان کا نام آف شور ‏کمپنیز سے جوڑنا چاہا مگر ایک بار پھر عمران خان سرخرو رہے-‏

اپنے ٹوئٹر بیان میں فیصل جاوید نے لکھا کہ ‏ICIJ‏ نے تصدیق کردی کہ عمران خان کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ‏ہے، وزیراعظم نے یہ بھی واضح کردیاکہ کوئی بھی پاکستانی ہو تحقیق ہوگی غیر قانونی عمل ہوا توکارروائی ہوگی۔

وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شرجیل میمن،اسحاق ڈارکےبیٹےعلی ڈارکی اپنی ‏کوئی حیثیت نہیں، اسحاق ڈارکےبیٹےعلی ڈارنوازشریف کےدامادبھی ہیں یہ نوازشریف اور زرداری کےپیسوں کے ‏پہرےدار ہیں۔

فوادچوہدری نے کہا کہ پنڈورالیکس سےنواز، زرداری کرپشن کی مزید پرت سامنےآئیں قوم نے پہلےپانامہ، اب ‏پنڈورامیں ان کےچہروں سےنقاب اترتا دیکھا۔

عالمی تحقیقاتی آئی سی آئی جے نے ایک بار پھر ٹیکس چھپانے کے لیے بنائی جانے والی کمپنیز اور مالکان کے نام ‏کی تفصیلات جاری کردیں۔

آئی سی آئی جے کے مطابق مالی امور کی تحقیقات دو سال میں مکمل کی گئی، جس میں 117 ممالک کے 150 ‏میڈیا اداروں کے 600 صحافیوں نے تحقیقات کیں۔ پینڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں ‏جبکہ یہ ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہے۔