دیامر بھاشا ڈیم : چیئرمین واپڈا اور کمانڈر 10 کور کا تعمیراتی کام پر پیشرفت کا جائزہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

چیئرمین واپڈا کا دیامر بھاشا ڈیم کا دورہ، تعمیراتی کام پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ تھے۔ جنرل منیجر (لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سٹیلمنٹ) واپڈا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) شعیب تقی، جنرل منیجر (دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ) محمد یوسف راؤ کے علاوہ کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اپنے دورے میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے دیامر بھاشا ڈیم اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے کی بدولت زراعت کیلئے پانی دستیاب ہوگا، سیلاب سے بچاؤ میں مدد ملے گی اور سستی پن بجلی پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی شیڈول کے مطابق 29-2028 میں تکمیل کیلئے تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اس منصوبے کی بدولت ملکی اقتصادیات میں استحکام آئے گا اور غربت میں کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی لوگوں کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ واپڈا اس منصوبے کے تحت پراجیکٹ ایریا کی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات طور پر 78 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔

کمانڈر 10 کور نے اپنے خطاب میں کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم قومی اہمیت کا منصوبہ ہے اور انہیں اس منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں پاک فوج کی بھرپور معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج پراجیکٹ ایریا میں محفوظ اور سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے پر عزم ہے تاکہ منصوبے کی تمام سائٹس پر تعمیراتی کام بلا تعطل جاری رہے۔

چیئرمین واپڈا نے کمانڈر 10 کور کے ہمراہ پراجیکٹ ایریا میں مختلف سائٹس کا دورہ کیا اور تعمیراتی کام کا مشاہدہ کیا۔

قبل ازیں منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں پراجیکٹ انتظامیہ کی جانب سے ایک بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت منصوبے کی 8 مختلف سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے۔

ان سائٹس میں سڑکوں کی تعمیر، دریائے سندھ پر مرکزی ڈیم سے زیریں جانب مستقل پل اور 21 میگا واٹ کا تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ڈیم کی تعمیر کیلئے بالائی جانب سے کھدائی، ڈائی ورژن ٹنل، ڈائی ورژن کینال، ڈائی ورژن ان لیٹ اور پاور ان ٹیک کی کھدائی شامل ہے۔

مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت صحت، تعلیم، سیاحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے جاری مختلف منصوبوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کے دوران ملازمتوں کے مرحلہ وار 16 ہزار 500 مواقع پیدا ہونگے جن میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس وقت بھی واپڈا، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے پاس 3 ہزار 200 مقامی افراد کام کر رہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے پر مجموعی طور پر 8 اعشاریہ 1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا۔

1.23 ملین ایکڑ زمین سیراب ہو گی۔ 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور نیشنل گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ سے زائد کم لاگت پن بجلی مہیا ہوگی۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا اور دیگر پن بجلی گھروں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی پن بجلی حاصل ہوگی جبکہ تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی 35 سال کا اضافہ ہو جائے گا۔