پشاور : سڑکوں پر غیر قانونی رکشوں کی بھرمار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

نئے رکشوں کی رجسٹریشن پر پابندی کے باوجود صوبائی دارالحکومت پشاور میں رکشوں کا اژدھام بڑھنے لگا۔ جس کے باعث ٹریفک جام معمول بن گیا ہے۔

پشاور میں غیرقانونی رکشے شہریوں کے لئے وبال جان بن گئے ہیں، ان غیرقانونی اور بے ہنگم رکشوں پر قابو پانے کے لیے چار سال سے نئے رکشوں کی رجسٹریشن پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود گزرتے دنوں کے ساتھ ان غیر رجسٹرڈ رکشوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے.

اس وقت شہر کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے رکشوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جس میں 75 ہزار سے زائد غیر قانونی رکشے بھی شامل ہیں، پشاورمیں اکثریت ان رکشوں کی ہے جو بغیر پرمٹ کے سڑکوں پر چلائے جارہے ہیں.

رپورٹ کے مطابق ان میں ایسے رکشے بھی شامل ہے جو دوسرے رکشوں کے پرمٹ استعمال کرکے چلائے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر رکشا ڈرائیوروں کے پاس لائسنس تک نہیں ہوتے پھر بھی یہ سڑکوں پر گھومتے رہتے ہیں۔

حکومت نے رکشوں کے پرمٹ جاری کرنے پر گزشتہ چار سال سے پابندی عائد کی ہے تاہم اس کے باوجود اب مقامی سطح پر رکشے تیار کئے جاتے ہیں جو ان سڑکوں پر بغیر پرمٹ کے چلتے ہیں.

میڈیا رپورٹ کے مطابق اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کم عمر لڑکے بھی رکشے چلاتے نظرآتے ہیں، ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے اور ڈرائیونگ پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے اکثرحادثات بھی ہوتے ہیں.

مزید کہا گیا ہے کہ بے ہنگم رکشوں کو روکنے کے لیے ٹریفک پولیس بھی بے بس نظر آتی ہے جب کہ حکومت کے پاس ان غیر قانونی رکشوں کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی کا بھی فقدان ہے۔