شیرین خیل گاؤں کی تاریکیاں بدلنے کے منتظر

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شیرین خیل جنوبی وزیرستان کا وہ بدبخت گاؤں ہے جہاں قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی سرکاری سکول تعمیر ہوا نہ کوئی نجی سکول، گاؤں کے مشران شاکی ہیں کہ ایسے بنیادی حق بارے ان کی آواز کسی نے بھی نہیں سنی۔

تحصیل مکین میں واقع شیرین خیل گاؤں کی کل آبادی تین ہزار کے قریب ہے جس میں بچوں کی تعداد چھ سو ہے تاہم علاقے میں آپریشن کے اس وقت گاؤں میں رہائش پذیر خاندانوں کے دو سو کے قریب بچے موجود ہیں جبکہ گاؤں کے دیگر لوگ بنوں، ڈیرہ اسمعیل خان اور دیگر علاقوں میں متاثرین کی زندگی گزار رہے ہیں۔

2016 میں کامیاب فوجی آپریشن راہ نجات کے بعد گاؤں کے لوگ جب واپس آئے تو ان کے بیشتر مکانات آپریشن کے باعث تباہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ تاحال خیموں میں زندگی کے شب و روز بسر کررہے ہیں تو ایسے حالات میں بچوں کے سکول کی فکر نہایت ہی مشکل امر ہے۔

جون 2017 میں گاؤں کے چند نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گاؤں کے ان دو سو بچوں کیلئے پڑھائی کا سلسلہ شروع کریں گے۔ ہر چند کے وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے تاہم پھر بھی ان باہمت نوجوانوں نے یہ سلسلہ شروع کردیا، ان نوجوانوں میں محمد رسول اور سید رحمان بھی شامل ہیں۔

شیرین خیل گاؤں کے ان پیارے بچوں کے سکول کیلئے نوجوانوں کے اس گروپ نے کوئی باقاعدہ عمارت نہیں بنوائی بلکہ ایک کھلے میدان میں گاؤں کے بچوں کو جمع کرکے انہیں الف، ب، ت پڑھانے کا عزم کررکھا ہے۔

سکول میں لکھنے کیلئے بورڈ ہے نہ چاک البتہ سکول ہذا کے باہمت اور حوصلہ مند اساتذہ آپریشن کے دوران تباہ شدہ مکانات کے دروازے بطور بورڈ استعمال کرتے ہیں اور کوئلہ بطور چاک اور یوں انہوں نے بچوں کا یہ سلسلہ تعلیم جاری رکھا ہوا ہے۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں سید رحمٰن کا کہنا تھا کہ جب سکول کا آغاز کیا تو بچوں کیلئے کتابیں تھیں نہ ہی بستے، بس جیسے تیسے کرکے ہم نے ان کے پڑھانے کیلئے بنیادی سامان پورا کیا کیونکہ گاؤں کے لوگ بھی بہت غریب ہیں اور ان کی اتنی بساط نہیں کہ بچوں کے سکول کا بوجھ اٹھا سکیں۔

سید رحمٰن نے مزید بتایا کہ جب کبھی موسم انتہائی گرم ہو یا سردیوں میں جب بارش ہوتی ہے تو اس دن سکول کی چھٹی ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس سکول کیلئے ٹینٹ ہے نہ ہی چھت۔

نومبر 2018 میں شیرین خیل گاؤں کی اس صورتحال کی جب میڈیا کے ذریعے تب کے آئی جی ایف سی ساؤتھ میجر جنرل عابد لطیف کو خبر ہوئی تو انہوں نے فوری طور پر ایک ٹیم اس گاؤں بھیجی، کرنل شفاعت نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گاؤں کا تفصیلی دورہ کیا اور مشران سے معذرت بھی کی۔

کرنل شفاعت نے پہلے مرحلے میں عارضی سکول کیلئے کچھ کتابیں، ایک بورڈ، دو خیمے اور اٹھارہ ڈیسکس دیے اور آرمی کی جانب سے دو کمروں پر مشتمل سکول کی تعمیر کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول کی تعمیر کے حوالے سے سول حکومت کے ساتھ بات کریں گے۔

سکول چلانے والے یہ نوجوان مگر اب انتہائی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ اپنے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کیلئے انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر جھوٹے وعدوں اور طفل تسلیوں کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

بقول ان کے ڈپٹی کمشنر انہیں اپنے ماتحت افسران کے پاس بھجواتے ہیں اور وہ محکمہ تعلیم کے حکام کے پاس مگر ایجوکیشن آفیسر کا کہنا ہے کہ وہ بےبس ہیں اور ان کے پاس فنڈز ہی نہیں ہیں۔

محمد رسول کہتے ہیں کہ تعلیم کے خواب آنکھوں میں سجائے ان بچوں کیلئے انہوں نے کوئی ایک در نہیں چھوڑا اور آخر میں خیبرپختونخوا کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر سے بھی پشاور میں ملاقات کی لیکن خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے بھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

شیرین خیل گاؤں کے مشران اور بچوں نے مل کر وزیراعلیٰ محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے سکول کے قیام کے سلسلے میں عملی اقدامات کریں کیونکہ تعلیم کا حصول ان کا بھی حق ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم ایسا بنیادی حق انہیں فراہم کرے اور ستر سالوں سے جاری شیرین خیل گاؤں کی تاریکیاں روشنیوں میں بدل دے۔