سوشل میڈیا پر ہر قسم کے ویکسین مخالف مواد پر پابندی عائد

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم میں ہر طرح کے ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں یہ اعلان کیا گیا۔

کمپنی کے مطابق کووڈ 19 سے ہٹ کر بھی عالمی ادارہ صحت یا ممالک میں منظوری حاصل کرنے والی ہر قسم کی ویکسینز کے اثرات کے خلاف گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق صارفین کو کسی بھی ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن دعویٰ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے، جیسے کسی ویکسین کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے استعمال سے دائمی مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے یا ویکسین سے بیماری کا پھیلاؤ کم نہیں ہوتا یا تحفظ نہیں ملتا وغیرہ پر ایکشن لیا جائے گا۔

مگر کمپنی نے بتایا کہ صارفین کی جانب سے ویکسین پالیسیوں، نئے ویکسین ٹرائلز اور ماضی میں ویکسینز کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے مواد کو پوسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

صارفین ویکسینز پر سائنسی بحث اور اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرسکیں گے، مگر ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن باتوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ ایسے چینیلز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے گا، جو ویکسینز کی مخالفت کرنے والے بڑے ناموں سے منسلک ہوں گے۔

یوٹیوب کے گلوبل ٹرسٹ اینڈ سیفٹی نائب صدر میٹ ہالپرین نے بتایا کہ جامع پالیسیوں کو تشکیل دینے میں وقت لگتا ہے، ہم ایسی پالیسی لانچ کرنا چاہتے ہیں جو جامع، تسلسل کے ساتھ نفاذ کے لیے آسان اور چیلنجز کا سامنا کرسکے۔

یوٹیوب کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کووڈ 19 کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد ہے۔