چھومس تہوار : مسلم اینڈ کیلاش ڈیفنس کونسل نے پاک فوج سے مدد مانگ لی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

مسلم اینڈ کیلاش ڈیفنس کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ وادی کیلاش کی سڑک پر فوری کام شروع نہ کرنے پر سالانہ تہوار چھومس میں کسی سیاح کو نہیں آنے دیا جائے گا۔

مسلم اینڈ کیلاش ڈیفنس کونسل یونین کونسل آیون کے زیر اہتمام مسلمان اور کیلاش قبیلے کے سینکڑوں لوگوں نے آیون میں ایک پر امن احتجاجی جلسہ کیا جس کی صدارت صالح نظام ایڈوکیٹ نے کی۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم اور کیلاش قبیلے کے عمائدین بشمول خواتین کونسلرز نے کہا کہ وادی کیلاش پوری دنیا میں اپنی محصوص ثقافت اور قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور ہے اور کیلاش قبیلے کے سالانہ تہواروں کا پوری دنیا میں چرچا ہے.

انہوں نے کہا کہ کہ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب سیاح ایک بار اس تنگ اور خطرناک سڑک پر سفر کرتا ہے تو آئندہ اپنے آنے والے نسلوں کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ دوبارہ کیلاش نہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وادی کا سرحد افغانستان کے صوبہ نورستان کے ساتھ لگا ہے جو طالبان کا گڑھ ہے اور ماضی میں کئی بار افغانستان سے دہشت گردوں نے یہاں آکر کئی کیلاش لوگوں کو قتل کرکے ان کے سینکڑوں مال مویشی بھی لے گئے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ہم حکومتی اداروں سے خاص کر نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے بہت مایوس ہوئے اسلئے ہم چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ سیکورٹی نقطہ نظر سے اس سڑک کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک فوج اس سڑک کو خود بنائے۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل ایک یونانی انجینر کیلاشا دور سے طالبان نے اغواء کیا تھا جس کی بازیابی بروقت ہوسکتا تھا مگر سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ہماری فورس کئی گھنٹے پیدل سفر کرکے واپس لوٹے۔

اس موقع پر کیلاش خواتین نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے چترال منتخب اراکین اسمبلی پر کڑی تنقید کی کہ ووٹ کے وقت وہ ہمارے ہر گھر میں آتے ہیں مگر اب جبکہ ہماری سڑک خراب ہے تو وہ نہ اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہیں نہ ہمارے پاس آکر احتجاج میں حصہ لیتے ہیں۔

کیلاش قبیلے کے عمائدین نے متنبہ کیا کہ اگر اس سڑک پر فوری کام شروع نہ ہوا تو وہ مجبوراً اپنے سالانہ مذہبی تہوار چھومس وغیرہ کا بائیکاٹ کریں گے اور اس بار آنے والے تہوار پر آنے والے سیاحوں کو بھی روک دیا جائے گا۔

جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا جس کے تحت انہوں نے کہا کہ پچھلے حکومت میں اس سڑک کی تعمیر کیلئے چار ارب 60 کروڑ ورپے منظور ہوئے تھے مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ابھی تک اس سڑک پر کام شروع نہیں ہوا.

انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ NHA حکام کو ہدایت کرے کہ اس سڑک پر فوری کام شروع کروائے تاکہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی مشکلات میں بھی کمی آسکے۔

قرارداد کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر سیکشن فور لگا کر اس سڑک کی کشادگی میں آنے والے زمین کے مالکان کو موجودہ نرح کے مطابق ادایگی یقینی بنائے۔

وادی کیلاش کی شمالی اور جنوبی سرحدیں جو افغانستان کے صوبہ نورستان سے ملتے ہیں اور ماضی میں کئی بار وہاں سے دہشت گردوں نے کیلاش لوگوں کو جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے.

انہوں نے کہا کہ آج کل ایک بار پھر افغانستان میں حالات غیر یقینی اور سنگین ہے لہذا ان کی شر سے پاکستان کو محفوظ کیا جائے۔ اور وزیر زادہ کیلاش معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر اعلیٰ خیبر پحتون خواہ ان سڑکوں کی تعمیر پر فوری کام شروع کروائے۔