ضم شدہ اضلاع میں ڈینگی کی روک تھام کے لئے ایکشن پلان مرتب

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈائریکٹوریٹ صحت ضم اضلاع نے ڈینگی کی روک تھام، اس کی شدت کم کرنے اور علاج کے لئے جامع ایکشن پلان مرتب کرتے ہوئے عملدرآمد شروع کر دیاہے۔

ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ضم اضلاع ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع کو آگاہی مواد فراہم کر دیا گیا ہے ، بینرز، بروشرز اور پمفلٹس تقسیم کئے جارہے ہیں ، گھر گھر لاروے کی سرویلنس کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی گئی ہے ہسپتالوں کو علیحدہ وارڈز کے قیام کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ سپرے کے لئے کرم کش ، مچھر مار ادویات، پمپس اور مشینیں فراہم کر دی گئی ہیں، گھر گھر سپرے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی تشخیص کے لئے تمام اضلاع اور سب ڈویژنوں میں میڈیکل سپیشلسٹس کو تربیت دی گئی ہے ، مفت تشخیص کے لئے ہسپتالوں میں ڈینگی کٹس کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ صحت ضم اضلاع میں 11 لاکھ مچھریاں دانیاں تقسیم کرے گا رواں سال صرف ضلع خیبر میں پانچ لاکھ مچھر دانیاں تقسیم کی جائیں گی پہلے مرحلے میں ضلع خیبر کو 1300 مچھر دانیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔

ضلع خیبر صوبائی دارالحکومت سے پیوستہ ہے پشاور کے علاقوں شیخان، سربند اور بٹہ تل سے ڈینگی کیس سامنے آرہے ہیں پشاور سے نزدیک ہونے کی وجہ سے خیبر سے بھی ڈینگی کیس سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈوگرہ باڑہ سے بھی کیس رپورٹ ہوئے ہیں متاثرہ افراد پشاور کے سرحدی علاقوں میں جاتے رہے ہیں ، صورتحال سے نمٹنے کے لئے ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ ٹیم خیبر، ڈیسیسز سرویلنس اینڈ رسپانس انیٹگریٹڈ ویکٹر مینجمنٹ پروگرام ضم اضلاع پر مشتمل ٹیم دی گئی جس نے عوامی آگاہی مہم چلائی، ٹیم سرگرمیوں میں مزید اضافہ کرے گی ، طلبہ، اساتذہ اورمعاشرے میں اثر رسوخ رکھنے والے افراد اور عوام کو آگاہی دی جارہی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق ضلع خیبر سے اب تک 145 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 118 ڈوگرہ ہسپتال میں تشخیص کئے گئے ہیں، ہسپتال میں مفت علاج فراہم کیا جارہا ہے پشاور کے بعض مریض بھی علاج کے لئے اسی ہسپتال سے رجوع کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ ڈینگی وائرس کی منتقلی کا سیزن ہونے کے باعث ضلع خیبرکی ہیلتھ ٹیم کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کڑی نگرانی کی ہدایات دی گئی ہیں، علاج وروک تھام کی سرگرمیاں ساتھ ساتھ چلائی جارہی ہیں مرض کے کنٹرول کے لئے لوگوں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔