ملک میں بے روزگاری سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا انکشاف

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سینیٹ کی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کے اجلاس کے دوران ملک میں سرکاری اعداد و شمار سے ڈھائی گنا زیادہ بے روزگاری کا انکشاف ہوا ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمینٹ اکنامکس کی جانب سے ملک میں بے روزگاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد ساڑھے 6 فیصد ہے لیکن ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 16 فیصد ہے.

رپورٹ کے مطابق ملک میں 24 فیصد پڑھے لکھے افراد بے روزگار ہیں، ملک میں 40 فیصد پڑھی لکھی خواتین بے روزگار ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض لوگ نوکری نہ ملنے کے باعث ایم فل وغیرہ میں داخلہ لیتے ہیں، ان افراد کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہوتا اس لئے وہ مزید پڑھتے رہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ایک چپڑاسی کی نوکری آئی جس کے لئے ڈیڑھ لاکھ افراد نے درخواستیں جمع کرائیں، ان میں ایم فل کرنے والے افراد بھی تھے۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کوئی تحقیق نہیں کر رہی، ملک میں تحقیق کے لئے بڑی بڑی عمارتیں بنائی گئی ہیں لیکن اندر کچھ نہیں ہو رہا، ساری ریسرچ باہر بیٹھا گورا کر رہا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ملک میں بیروزگار افراد کے حوالے سے حکام سے مزید تفصیلات مانگ لیں۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے ملک میں ریلوے کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ ملک میں ریلوے کی خراب صورتحال ہے، سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ریلوے اپنے ادارے کو خود تنخواہ نہیں دیتا، ریلوے ملازمین کی تنخواہیں وزارت خزانہ دیتی ہے.

اس ریمارکس پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمینٹ اکنامکس کے حکام نے کہا کہ ریلوے کو کمرشل انداز میں نہیں چلایاجارہا، ملک میں ریلوے کو سول سروس کی طرح چلایا جا رہا ہے۔