پشاور کے تھانوں میں خواتین محرروں کی تعیناتی کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا پولیس نے تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے نئے اقدامات کرنا شروع کردیئے ہیں، پہلی مرتبہ پشاور کے تھانوں میں خواتین محرر کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بڑے پولیس اسٹیشننز میں خواتین مدد محرر بھی تھانوں میں مرد پولیس اسٹاف کیساتھ تعینات ہونگیں۔

سی سی پی او پشاور نے خواتین مدد محرروں کی تھانوں میں تعیناتی کے حوالے سے بتایا کہ جو لیڈی کانسٹیبل محرروں کا تحریری ٹیسٹ پاس کرے گی باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق انکی تھانوں میں تعیناتی کی جائے گی.

انہوں نے کہا کہ فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں جو خواتین پولیس تھانوں میں بطور محرر اسٹاف تعینات ہونا چاہتی ہیں انکو میرٹ کی بنیاد پرتعینات کیا جائیگا۔

اس اقدام سے ویمن پولیسنگ کو فروغ ملے گا جبکہ طویل عرصے سے فیلڈ میں ڈیوٹی سرانجام دینے والی ویمن پولیس کانسٹیببلز کو تھانوں کے اندر کام کرنے کا موقع ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں لیڈی کانسٹیببلز کو کینٹ اور حیات آباد کے تھانوں میں بطور محرر لگانے کی تجویز زیرغور ہے جبکہ خواتین کانسٹیببلز کی ٹرانسپورٹ سہولت کو مدد نظر رکھتے ہوئے تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

کے پی پولیس سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر خواتین پولیس اہلکاروں کی تعداد 728 ہے، جس میں پشاور میں خواتین پولیس کی تعداد 101 بتائی گئی ہے جن میں سے اب پہلی مرتبہ خواتین کو بطور محرر اسٹاف تعینات کیا جائیگا۔