ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا میں ڈینگی پھیلنے لگا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ اب ڈینگی نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور اور پشاور میں ڈینگی کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ ملک میں 6 افراد جانوں کی بازیاں بھی ہار چکے ہیں۔

اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قومی میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ڈینگی کے 17 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 17 مریضوں میں سے 14 کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جب کہ 3 شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی کے کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 94 ہو گئی ہے، جن میں سے 67 مریضوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جب کہ 27 شہری علاقوں کے رہائشی ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کے مطابق اب تک ڈینگی سے متاثرہ دو مریضوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

سندھ میں بھی بارشوں کے بعد ڈینگی کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ سندھ میں 338 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 239 کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔

شہر قائد میں ڈینگی سے متاثرہ 4 افراد اپنی جانوں کی بازیاں بھی ہار چکے ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں سب سے زیادہ 83 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ضلع شرقی میں 51، جنوبی میں 37، کورنگی اور ملیر میں 23/23 اور ضلع غربی میں 21 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں ڈینگی سے متاثرہ چار افراد کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سے تین کا تعلق ضلع وسطی اور ایک کا تعلق ضلع شرقی سے تھا۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق اگست سے نومبر تک ملیریا اور ڈینگی کی ا فزائش کے حوالے سے ہائی ٹرانسمیشن سیزن رہتا ہے۔ اس مرتبہ بھی بارشوں کے بعد کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کی ہدایت پر تمام اضلاع کے صحت افسران کو ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے جب کہ کراچی کے سروسز اسپتال میں بھی ڈینگی کنٹرول کے لیے کیمپ آفس میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق جن علاقوں میں ڈینگی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں وہاں اسپرے کیا جا رہا ہے۔

صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے لیکن پنجاب میں ڈینگی سے سر اٹھا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے اب تک 700 سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں سب سے زیادہ ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت میں صحت کے شعبے میں 50 فیصد آسامیوں پر تعیناتیاں نہیں ہوتی تھیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسپتالوں کو وافر بجٹ فراہم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے ٹیچنگ اسپتالوں کے لیے 9 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی ڈینگی کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے تحت اسپتالوں میں اس وقت ڈینگی سے متاثرہ 39 مریض زیر علاج ہیں۔

اس ضمن میں اسپتال کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے پشاور کے دو تدریسی اسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار ڈینگی ٹیسٹس کیے گئے تو ان میں سے 275 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

اسپتال ترجمانوں کے مطابق خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 30 اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی کے 9 مریض زیر علاج ہیں۔

ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کا تعلق پشاور کے نواحی علاقوں، تہکال، سفید ڈھیری اور اکیڈمی ٹاؤن سے ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے علاقوں سربند اور لنڈی کوتل میں بھی ڈینگی پھیلنے لگا ہے۔

محکمہ صحت کی جانب سے اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ مریضوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کریں۔