ہماری معیشت مہاجرین کا مزید بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں، شاہ محمود قریشی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کریں۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان ہاؤس نیویارک میں اقوام متحدہ کی کوریج پر مامور بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے منسلک صحافیوں سے ملاقات کی.

انہوں نے وزیر خارجہ نے اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کے نکتہ نظر کی وضاحت کے علاوہ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان شہریوں نے گذشتہ چار دہائیوں میں جنگ و جدل کا سامنا کیا ہے، اب افغانستان میں قیام امن کی امید پیدا ہوئی ہے، عالمی برادری کو اس نازک موڑ پر افغانوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے، پر امن افغانستان پورے خطے کے مفاد میں ہو گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں، سفارتی عملے اور میڈیا نمائندگان کے انخلاء میں بھرپور معاونت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے محدود وسائل کے ساتھ عالمی برادری کی مالی معاونت کے بغیر 30 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں، ہماری معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اگر افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ افغانستان میں پنپتے ہوئے انسانی بحران کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر افغانوں کی مدد کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے.

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، پاکستان دیگر ہمسایوں کی طرح افغانستان میں اجتماعیت کی حامل جامع حکومت کے قیام کا خواہاں ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں مفاہمت کا عمل اجتماعیت کی حامل حکومت کے قیام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجودہ تبدیلی کے دوران بہت سے مثبت پہلو بھی سامنے آئے، اس حالیہ تبدیلی کے دوران خون خرابے اور خانہ جنگی کا نہ ہونا مثبت پہلو ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبان رہنماؤں کی جانب سے سامنے آنے والے ابتدائی بیانات حوصلہ افزا ہیں، طالبان کی طرف سے جنگ کے خاتمے، عام معافی کے اعلان، بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات حوصلہ افزا ہیں، عالمی رائے کا احترام اور اپنے وعدوں کی پاسداری طالبان کے بہتر مفاد میں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے عالمی طاقتوں سے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آپ بحران کو روکنے کے لیے نئے سرے سے فنڈز جمع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان کے جو اثاثے ہیں وہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اثاثے منجمد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ میں عالمی طاقتیں اپنی پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لیں اور اثاثے غیر منجمد کرنے کے بارے میں سوچیں، افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی اعتماد سازی کیلئے اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کاوشوں میں شراکت داری کا خواہاں ہے،وزیر اعظم عمران خان نے منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کو دعوت دی کہ اگر وہ ایک قدم امن کی جانب بڑھائیں گے تو ہم دو بڑھائیں گے .

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیر آئینی اقدامات کئے جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا.

انہوں نے بتایا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں آج بھی بھارت کے پاس آپشن موجود ہے اگر وہ خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے تو کشمیریوں پر جاری مظالم کو بند کرے اور 5 اگست جیسے غیر آئینی اقدامات کو واپس لے۔