قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے ضلع شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام سے اتفاق کر لیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ٹوچی ویلفیئر تنظیم کی طرف سے ضلع شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے ایجوکیشن سٹی منصوبے کو صوبائی حکومت کی قبائلی اضلاع کیلئے دس سالہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنے اور اس مقصد کیلئے فوری طور پر ورکنگ گروپ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ، سیکرٹری ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، ٹوچی ویلفیئر تنظیم کے عہدہ داران اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو ٹوچی ویلفیئر تنظیم اور ضلع شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ایجوکیشن سٹی کیلئے لوکل کمیونٹی کی طرف سے ٹاپی کے مقام پر ایک ہزار کنال زمین فراہم کی گئی ہے جبکہ یہ زمین ضلع شمالی وزیرستان کے تین سب ڈویژن کے با لکل وسط میں واقع ہے جس سے پورے ضلع کے عوام مستفید ہونگے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایجوکیشن سٹی کا مقصد وہاں کے عوام کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم ان کے دہلیز پر دینا ہے جس سے شمالی وزیرستان میں نہ صرف اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیول بڑھے گا بلکہ گریجویٹ لیول کے بعد ڈراپ آئوٹ تناسب میں بھی کمی آئے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں شمالی وزیرستان میں تعلیمی شرح سب سے کم ہے جو مجوزہ ایجوکیشن سٹی کے قیام کے بعد بڑھے گی، ایجوکیشن سٹی کے قیام سے ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بھی فروغ ملے گا جس سے بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا جبکہ خواتین کو بھی بہتر تعلیمی ماحول میسر ہوگا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایجوکیشن سٹی کے قیام سے نہ صرف پاکستان کے دیگر علاقوں سے لوگ مستفید ہونگے بلکہ پڑوسی ملک افغانستان کے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

اجلاس کو ایجوکیشن سٹی کیلئے کی گئی منصوبہ بندی سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے تحت ایجوکیشن سٹی میں کمیونٹی کی شمولیت، منصوبے کی پائیدار ترقی، ماسٹر پلان، انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی کے قابل تجدید منصوبے، نکاسی آب منصوبے، شہری سہولیات، سکول اور ہسپتال وغیرہ شامل کئے گئے ہیں۔

اجلاس کو ایجوکیشن سٹی میں زیرزمین بجلی کی ترسیل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کی ترقی کے حوالے سے بھی بتایا گیا، ماسٹر پلان کے تحت ایجوکیشن سٹی میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو مدعو کیا جائے گا جبکہ میڈیکل کالج، تدریسی ہسپتال، سپورٹس کمپلیکس، ایمرجنسی سروسز، ایگریکلچر یونیورسٹی، ہاسٹلز وغیرہ ایجوکیشن سٹی میں قائم کئے جائیں گے۔

اجلاس کو منصوبے کی لاگت کے حوالے سے بھی بتایا گیا جس کے تحت سڑکوں کے لئے 250 کنال زمین مختص کی گئی ہے جس پر 375 ملین روپے لاگت آئے گی، اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر کیلئے 50 کنال اراضی، گورنمنٹ سیکٹر کیلئے 390 کنال اراضی، کھیلوں کی سہولت کیلئے 100 کنال اراضی، رہائشی/ سکول کالجز کیلئے 170 کنال اراضی جبکہ ہاسٹلز کیلئے 40 کنال اراضی مختص کی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل پر کل 1.5 بلین روپے لاگت آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تعلیم کے فروغ کیلئے اس طرح کے اچھے منصوبوں کو صوبائی حکومت ہرممکن مدد فراہم کرے گی،  اس منصوبے سے مستقبل میں کافی اچھے نتائج برآمد ہونگے، قبائلی اضلاع میں معیاری تعلیم کا فروغ اور خصوصی طور پر خواتین کیلئے تعلیمی مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم ہی ترقی یافتہ قوموں کی نشانی ہے، اسی نظریے کے تحت صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

انہوں نے شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام کے حوالے سے فوری طور پر ورکنگ گروپ بنانے کی ہدایت کی، ورکنگ گروپ میں ٹوچی ویلفیئر تنظیم کے عہدے داران، پرائیویٹ سیکٹر اور حکومتی حکام کو شامل کیا جائے گا۔

وزیراعلی کا مزید کہنا تھا کہ ایجوکیشن سٹی کے قیام کے حوالے سے صوبائی حکومت ٹوچی ویلفیئر تنظیم کے ساتھ ہر ممکن تعاون ممکن کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ قبائلی اضلاع کے دس سالہ ترقی یاتی پلان میں شامل کیا جائے گا اور عندیہ دیا کہ شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کا باقاعدہ افتتاح اپنے ہاتھوں سے ممکن بنائیں گے۔