“تین دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں”

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ اب بھی ہے، تین دہشت گرد گروہ پہلے سے ہی پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے دوشنبے میں آر ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ایس سی ای اجلاس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسایہ شریک ہوئے، پورے خطےکیلئے افغانستان اس وقت سب سے اہم موضوع ہے کیونکہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہوا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان40سال کی جنگی صورت حال کے بعد اب استحکام کی طرف بڑھےگا،اگر اس کی سمت غلط ہوگئی تو وہاں افراتفری، انسانی بحران اور پناہ گزینوں کےمسائل پیدا ہوں گے، جس سے ہمسائے متاثر ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کےنکتہ نظرسے افغان سرزمین سے اب بھی دہشت گردی کا خطرہ ہے، پہلے سے ہی 3 دہشت گردگروہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، بدقسمتی ہےہمارےخلاف پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی، سابق افغان حکومت کی نااہلی،کرپشن اور مؤثرگورننس نہ کرنےکی صلاحیت سے توجہ ہٹانےکیلئے ہمارے خلاف مہم چلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’سابق افغان حکومت کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی حکومت سمجھتی رہی،اس لیے اُن کی نظر میں حکمرانوں کی کوئی عزت نہیں تھی، پروپیگنڈےکا دوسرا کردار بھارت ہے جس نےافغانستان میں زیادہ سرمایہ کاری کی، ہماراملک کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کرسکتا تھا جوامریکا پر حاوی ہوگئی تھی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکا نے افغان جنگ میں 20 سال کے دوران 2ہزار ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، تین لاکھ افغان فوجی نے کوئی مزاحمت نہیں کی، کیا انہیں پاکستان سے لڑنے سے روکا تھا؟ پاکستان عالمی برادری کاحصہ ہے، طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا اہم قدم ہوگا‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں، وہاں ایسی مشترکہ حکومت ہونی چاہیے جو ملک کو متحد کرے،افغانستان میں20 سال تک طالبان نے انسانی تاریخ کےمہلک ترین جنگی اسلحےکا مقابلہ کیا، اب وہاں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے‘۔

’بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نےگزشتہ 20سال میں بہت کچھ سیکھا اور وہ تبدیل ہوئے، امریکاکی جانب سےطالبان حکومت کو تسلیم کرنے پرکچھ نہیں کہہ سکتا، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی امریکی ہم منصب سےملاقات ہوئی ہے، صدربائیڈن نے جو کیا وہ سمجھداری کافیصلہ تھا، انخلا سے دو ہفتےپہلے افغان آرمی ہتھیارڈال دیتی ہےتو تیاری کی جاسکتی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عالمی برادری کی جانب سےافغان حکومت کی مدد جائے تو افغانستان کو انسانی بحران سے بچایا جاسکتا ہے، امریکا کے اتحادی ہونےکے باوجود 480 ڈرون حملےکیےگئے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’افغانستان میں مشترکہ حکومت کے قیام کیلئےطالبان کو اپنےوعدوں پر قائم رہنا ہوگا تاکہ دنیا اُن پر بھروسہ کرے‘۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان نےبھارت کیساتھ امن اور بہتر تعلقات کیلئے اپنی پوری کوشش کی، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رکھا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ مسلح فوجی تعینات ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارت جب تک مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات واپس نہیں لیتا اُس وقت تک تعلقات کی بحالی مشکل ہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’روس کےساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آرہی ہے، ہم تعلقات میں مزید بہتری چاہتے ہیں، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، سعودی عرب پاکستان کا بہترین دوست ہے‘۔