“بھارت ہائیبر ڈوار کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے”

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت ہائیبر ڈوار کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے

فیک نیوز کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتا ہے جو اپنے وسائل اور اداروں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے بیج بونا چاہتا ہے، رب العالمین ان کے عزائم کو خاک میں ملادے۔

کچھ طاقتیں پاکستان میں نقص امن اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں، ہمیں ایسی قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا۔

اسلام فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف یکجاں ہونا ہوگا جبکہ بین المذہب ہم آہنگی کی جتنی ضرورت آج کے دور میں ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔

مقبوضہ کشمیر حریت لیڈر سید علی گیلانی نے بیماری میں بھی اپنا کردار ادا کیا، ہم ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ان کی وفات کے بعد سید علی گیلانی کے جسد خاکی کو ان کے خاندان سے زبردستی چھینا گیا، ہم ان کے خاندان کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہیں ان کی وصیت کے مطابق دفن نہ کیا گیا، ہم بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی پر زورمذمت کرتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ میں 40 سال بعد امن کی امید ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یااللہ افغانستان میں امن فرما، مولا دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا، یااللہ ہندوستان کی موجودہ سرکار کے عزائم کو خاک میں ملا دے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حضرت بہاالدین زکریا ملتانی کے 782ویں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی نشست سے خطاب و اختتامی دعا کرواتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ مخدومزادہ زین حسین قریشی، صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن گیلانی، حاجی جاوید اختر انصاری۔

ڈپٹی کمشنر ملتان عامر کریم خان، سجادہ نشین پاک پتن شریف دیوان حامد مسعود چشتی سمیت عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا حضرت بہاوالدین زکریا کے 782 ویں عرس کی آخری نشست میں بوجھل دل کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہوں، شہر ملتان کو کرونا کی وجہ سے ہائی رسک شہر قرار دیا گیا ایسے میں پہلے جیسی محافل عرس سجانا بہتر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کی صحت کا خیال بھی رکھنا ہے، ہماری خواہش تھی کہہ سینکڑوں سالوں کی روایت بھی برقرار رہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ مایوس نہ ہوں مجھے بہت سے لوگوں کے بڑے دردمندانہ فون آئے لا تعداد پیغامات آئے۔ جو اپنے گھروں میں افسردہ ہیں ان کو کہتا ہوں مت گھبرائیں مرشد کی نگاہ تم تک پہنچے گی۔

لاکھوں عقیدت مند سندھ، بلوچستان، آزادکشمیر اور جنوبی پنجاب میں موجود ہیں، میری آواز ان تک پہنچ رہی ہے۔ میرا ایمان ہے آپ کی حاضری قبول ہے اللہ تعالی دلوں کے راز جانتا ہے۔

انہوں نے کہا ان آستانوں میں محبت اور امن کی تعلیم دی جاتی ہے دنیا ان آستانوں سے فیض پاتی رہی ہے، ان آستانوں نے مختلف ادوار دیکھے انگریز اور سکھوں کے دور میں بھی آستانوں کا فیض جاری رہا ہے، کبھی دل میں یہ بات نہ لانا کہ اس آستانے کے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔

اس دنیا میں ہم تو چند دن کے مہمان ہیں مگر یہ آستانے تاحیات قائم رہیں گے اور آستانوں کا فیض جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا جج سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے، پچھلے دو سالوں سے حج کی سعادت لوگ حاصل نہیں کر سکے، حج جہاں لاکھوں کا مجمع وہاں چند ہزار کو حج کی اجازت ملی، روضہ رسول سے بڑی سعادت کی حاضری کیا ہو سکتی ہے مگر حالات کو دیکھتے ہوئے وہاں بھی بندش کرنی پڑی۔

زائرین مایوس نہ ہوں اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ کورونا وبا دیکھائی نہیں دیتی مگر اثرات چھوڑ جاتی ہے۔کورونا کی وجہ سے عرس تقریبات کو محدود کرنے کا مشکل فیصلہ کیا، کورونا کی وجہ سے ماضی کی طرح کی نشستوں کو منعقد نہیں کر سکے۔