پشتو زبان کی معروف افسانہ نگار زیتون بانو انتقال کرگئیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشتو زبان کی صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف لکھاری، افسانہ نگار زیتون بانو انتقال کرگئیں۔

تفصیلات کے مطابق پشتو زبان کی معروف لکھاری اور افسانہ نگار زیتون بانو 82 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔

ان کا ادبی سفر 62 سالوں پر محیط تھا۔ زیتون بانو 18 جون 1938ء کو پشاور کے نزدیک سفید ڈھیری کے مقام پر پیدا ہوئیں۔

انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 1958ء میں ہندارا (آئینہ) کے عنوان سے پہلی مختصر کہانی لکھ کر کیا، اور یہاں سے شروع ہونے والا ان کا سفر 62 برس پر محیط رہا۔

اس طویل عرصے میں انہوں نے اردو اور پشتو زبانوں میں متعدد افسانوں کی کتابیں اور مختصر کہانیاں لکھیں۔

ان کی مطبوعات میں مات بنگری، خوبونا، جواندی غمونا، برگ آرزو اور وقت کی دہلیز پر شامل ہیں. دیگر اشاعتوں میں دا شاگو مزل (ایک سفر کے ذریعے آنس) کے عنوان سے مختصر کہانیاں شامل ہیں۔

زېتون بانو المعروف مور بی بی کی نماز جنازه بروز بدھ صبح 10 بجے پشاور میں ادا کی جائے گی۔