حکومت کا آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں، کورونا سے اشیاء کے فراہمی متاثر ہوئی اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوئ.

انہوں نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی فی ٹن 430 ڈالر پر چلی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں زراعت کا شعبہ نظر انداز رہا اور کسان متاثر ہوا، ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کا ڈیٹا آگیا ہے، جس کے تحت ہم رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، اس سے قبل گیس اور بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے، اب آٹا، گھی، چینی، دالوں پر کیش سبسڈی دیں گے۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ ٣

انہوں نے مزید کہا کہ معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا، اب قرضے 39 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، یہ قرضے 2018 میں 25 ہزار 290 ارب روپے تھے، 2020 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 85.7 فیصد تھا اور 2021 میں یہ 81.1 فیصد ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام غریب عوام کا پروگرام ہے، اس کے لئے آئی ایم ایف رضامند ہو گیا ہے، کامیاب پاکستان پروگرام میں ایسا کچھ نہیں کہ آئی ایم ایف رضامند نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام گزشتہ ماہ میں شروع کیا جانا تھا، آئی ایم ایف کی رضامندی نہ ہونے کے باعث پروگرام شروع نہیں ہو سکا تھا، اب اسے رواں ماہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔