وائس چانسلرز کو ریٹائرڈ نہیں، جیل میں ہونا چاہیے تھا، پشاور ہائیکورٹ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور ہائی کورٹ نے صوبے کی جامعات اور اسلامیہ کالج کی زمینوں کو سستے داموں لیز دینے والے چانسلر کے خلاف سخت ریمارکس دیئے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیز کے مالی بحران سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وائس چانسلر اسلامیہ کالج، پشاور یونیورسٹی کے وکیل اور اے اے جی سید سکندرحیات شاہ روسٹم پر پیش ہوئے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر گل ماجد خان نے عدالت کو بتایا کہ مختلف مقامات پر کالج کی زمینیں ہے لیکن ان کو اس وقت کے بورڈ آف ٹرسٹی نے اونے پونے داموں لیز پر دیا، مارچ 2021 میں کالج کے وائس چانسلر کا چارج سنبھالا تو لیز پر دی گئی زمینوں کو واپس کرنے کے لئے کوششیں کیں۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیئے کہ بورڈ آف ٹرسٹی میں کون لوگ شامل تھے اور کن افراد کو یہ زمین دی گئی ہے؟ پہلے جو وائس چانسلر ریٹائرڈ ہوئے انہیں ریٹائرمنٹ کے بجائے جیل میں ہونا چاہیے تھا، اتنے بددیانت لوگ کون تھے جس نے اپنوں کو نوازنے کے لئے کالج کی قیمتی زمینوں کو انتہائی کم قیمت پر دیا۔

وائس چانسلر نے عدالت کو بتایا کہ خیبر بازار میں 222 کنال، چارسدہ، ہری چند، رے محال، برج ہری سنگھ اور صوابی میں کالج کی زمین ہے، صوابی میں 4 ہزار کنال زمین کے علاوہ باقی زمینیں بورڈ آف ٹرسٹی نے 2001 اور 2004 میں کم ریٹ پر لیز پر دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان زمینوں کو آج بھی مارکیٹ ریٹ پر دیا جائے تو کالج اپنے اخراجات خود برداشت کرسکتا ہے اور حکومت سے ایک روپیہ لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

پشاور یونیورسٹی کے وکیل وسیم الدین خٹک نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی کی زمینیں بھی کم ریٹ پر لیز کردی گئی ہے، پشاور یونیورسٹی روڈ جیسے مہنگے علاقے میں اب بھی 500 روپے کرایہ پر دکانیں لیز پر دی ہے۔