درہ آدم خیل کی پہلی لائبریری

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کوہاٹ کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں پہلی مرتبہ لائبریری کھولی گئی ہے جو حکومت نے نہیں بلکہ بعض مقامی جوانوں نے کھولی ہے۔

لائبریری اولس پارک میں کھولی گئی ہے انتظامیہ کے مطابق جس میں مختلف موضوعات پر دو ہزار کے قریب کتب پڑی ہیں۔

لائبریری کے مالک اور لائیبریرین راج محمد کہتے ہیں کہ ایک عرصہ سے ان کے ذہن میں یہ آئیڈیا تھا لیکن ان کے پاس وسائل کی کمی تھی۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں راج محمد کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ اگست 2018 میں انہوں نے یہ لائبریری درہ بازار کی ایک دوکاان میں کھولی تھی لیکن انہیں شدت سے یہ احساس ہوتا تھا کہ یہ جگہ عوام کیلئے موزوں و مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے آکسفورڈ کالج میں ایک تقریب میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے عوام کو لائبریری کے قیام کی خوشخبری سنائی تھی لیکن ساتھ ہی اپنی مشکلات اور مسائل بھی ان کے سامنے رکھے تھے جس پر آخوروال کول مائنز ایسوسی ایشن اور زرغوون خیل کول مائنز ایسوسی ایشن جیسی مقامی فلاحی تنظیموں کے علاوہ پاک فوج کے حکام نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

راج محمد کے مطابق امسال جنوری میں ان تنظیموں اور پاک فوج نے اولس پارک میں ایک بڑی عمارت بناکر دی جس میں دیگر سہولیات کی فراہمی بھی یقیننی بنائی گئی۔

بقول ان کے طلبہ کیلئے صرف سو روپے جبکہ عام لوگوں کیلئے ڈیڑھ سو روپے ماہانہ کی فیس مقرر کی گئی ہے تاہم اگر لائبریری کے اندر کتب بینی بالکل مفت ہے۔

راج محمد کے مطابق اب تک سو سے زائد افراد نے ممبر شپ لی ہے اور حیران کن طور پر ان میں 35 خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ خواتین خود لائبریری نہیں آتیں بلکہ والد، بھائی یا خاندان کا کوئی اور فرد بھیج کر کتابیں ایشو کرواتی ہیں۔

لائبریری کے قیام میں راج محمد کو پانچ دیگر ساتھیوں کا تعاون بھی حاصل ہے اور یہ ان سب کی دلی خواہش تھی جو آخرکار پوری ہوگئی۔