جنوبی وزیرستان : ضلعی دفاتر کی منتقلی کے حوالے سے اختجاجی جلسہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان پیپلزپارٹی نے جنوبی وزیرستان کے ضلعی دفاتر کی منتقلی کے حوالے سے رستم بازار وانا میں اختجاجی جلسہ کیا۔ جسمیں پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین اور کاکنان کے علاوہ علاقے کے مشران اور نوجوانانوں نے شرکت کی

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما و سابق صوبائی امیدوار عمران مخلص وزیر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جنوبی وزیرستان کے تمام ضلعی دفاتر ٹانک سے منتقل کیا جائے انہوں نے کہا کہ ضلع جنوبی وزیرستان کے دفاتر 120 کلومیٹر دور ٹانک میں موجود ہیں ، جو جنوبی وزیرستان کے عوام کے ساتھ ظلم و ناانصافی ہے ۔
عمران مخلص وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی کا بیانیہ بڑا واضح ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات قائم کی جاسکے۔ اور خاص کر افغانستان کیساتھ تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائے۔ کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بہتر روزگار کے مواقع میسر ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے قیام امن کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں قبائلی عوام معذور اور شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ بڑی پیمانے پر لوگوں کے مکانات اور مارکیٹیں تباہ ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کا انضمام ایک تاریخی، سیاسی اور کامیاب جدو جہد کا نتیجہ ہے۔ لیکن افسوس کہ تاحال حکومت نے قبائلی عوام کیساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کی۔ اور فیصلہ ہوا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہو گا لیکن ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں سول انتظامیہ کو بااختیار بنایا جائے تاکہ عوام کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہے۔ جس پر صرف قبائلی عوام کا حق ہے۔

اس موقع پر شہزادہ وزیر نے کہا کہ فاٹا انضمام کے ثمرات آنا شروع، پہلے ملکان و با اثر لوگ بھرتی ہوتے تھے اور اب وزیر اعلی و گورنر کے لوگ بھرتی ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت کے بھرتیوں میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے علاقے سوات سے 70 فیصد لوگوں کو لیا گیا ہے، یہ ہے عمران خان نیازی حکومت تبدیلی اور ضم شدہ اضلاع کی لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا، میرٹ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے فاٹا کے لوگوں کو ایسے نظر انداز کرنا شاید تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے اور481 میں سے جنوبی وزیرستان کا ایک بندہ بھی نہیں لیا گیا۔

آخر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما و سابق امیدوار قومی اسمبلی امان اللہ وزیر نے قراردار پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے تمام دفاتر ٹانک سے جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر کو شفٹ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لدھا اور سرویکئی سب ڈویژن کے دفاتر ٹانک سے اپنے اپنے سب ڈویژن منتقل کیا جائے۔ اور ہر تحصیل میں تحصیل بلڈنگ قائم کیا جائے۔