چین کی طالبان حکومت کو 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر امداد کی پیشکش

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت پاکستانی روپے میں کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کو بتایا کہ افغانستان کو ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اس لیے افغانستان کے ساتھ تجارت ڈالر میں نہیں پاکستانی روپے میں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے افغانستان کے ڈالر روک رکھے ہیں، افغانستان کی صورتِ حال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف معاملات چلانے کے لیے پاکستان سے بھی لوگوں کو بھیجا جا سکتا ہے، فوڈ پرائس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپریل مئی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، پائیدار شرحِ نمو نہ ہونے کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تھا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ افغانستان کے 9 ارب ڈالر عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے روکے گئے اور مالی ذخائر کو منجمد کیا گیا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستانی روپے میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں بعد یہ معلوم ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پر کیا اثرات مرتب ہونگے، افغانستان کی موجودہ صورتحال میں معمولات چلانے کیلئے یہاں سے بھی لوگوں کو بھیجا جاسکتا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اکتوبر میں کمیٹی کو پہلی سہ ماہی کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دوں گا، اگست میں امپورٹ بل میں اضافہ ہوا، ماہانہ بنیادوں پر درآمدات، برآمدات سمیت معیشت کا تجزیہ کیا جاتا ہے.

انہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کا بتایا گیا ہے۔